’پاکستان کی امداد کو مشروط نہ کریں‘

مولن پہلی بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کے جوہری اثاثے محفوظ ہیں۔
،تصویر کا کیپشنمولن پہلی بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کے جوہری اثاثے محفوظ ہیں۔
وقت اشاعت

امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائک مولن نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں میں اضافے سے طالبان سرحد پار پاکستان کا رخ کریں گے جہاں مزید مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔

<link type="page"><caption> پاکستان کے جوہری اثاثے محفوظ ہیں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/04/090403_nukes_mullen_as.shtml" platform="highweb"/></link>

سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سامنے ایک بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کو طالبان کے ہاتھوں میں جانے سے روکنا انتہائی اہم ہے۔

ایڈمرل مولن نے کہا کہ امریکی اور پاکستانی افواج مشترکہ طور پر اس خطرے سے نمٹنے کے لیے منصوبہ سازی کر رہی ہیں۔

ایک سینیٹر رس فینگولڈ کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکی فوج میں اضافے سے طالبان پاکستان کا رخ کریں گے اور وہاں حالات مزید خراب ہوجائیں گے۔

سینیٹ میں کئی ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو دی جانے والی امداد کو مشروط کیا جائے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر اور خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئرمین نے ایڈمرل مولن سے کہا کہ سینیٹ میں اس بات پر کافی تشویش پائی جاتی ہے کہ ماضی میں پاکستان کو دی جانے والی امداد کو کیسے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

سینیٹر جان کیری نے کہا کہ ماضی میں پاکستان کو دیئے جانے والے اربوں ڈالر کی امداد کی کوئی جوابدہی اور حساب نہیں تھا۔

جان کیری نے کہا کہ ان میں بہت سے سینیٹرز کو یہ علم ہی نہیں تھا کہ گزشتہ حکومت کے دور میں پاکستان کو دی جانے والی امداد کہاں خرچ کی جاتی رہی۔

سینیٹر جم ویب نے کہا کہ انہوں نے ایک ترمیم پیش کی ہے جس کے تحت پاکستان کی امداد کو جوہری پروگرام سے خرچ ہونے سے روکنے میں مدد ملے گی۔

صدر اوباما کی انتظامیہ پاکستان کی کاونٹر انسرجنسی یا مسلح بغاوت کو کچلنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے چار سو ملین یا چالیس کروڑ ڈالر دینے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایڈمرل مولن نے سینیٹروں کے سوالوں اور خدشات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ پاکستان کے ساتھ اعتماد بحال کرنا چاہ رہی ہے اور یہ ضروری ہے کہ پاکستان کو دی جانے والی امداد کا پیکج شرائط سے لدا ہوا نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ اس امداد کو پہلے سے مشروط کرنے سے بہتر ہے کہ امداد دینے کے بعد اس کا جائزہ لیا جائے کہ وہ صحیح جگہوں پر خرچ ہو رہی ہے کہ نہیں۔

انہوں نے کہ کہا کہ تنقید اور امداد کو مشروط کرنے سے پاکستان سے تعلقات بہتر کرنے کی کوششوں پر منفی اثر پڑے گا۔

چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف نے کہا اسلام آباد کے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر اٹھنے والے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے دی جانے والی امداد کی نگرانی کو بہتر کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’کوئلیشن سپورٹ فنڈ‘ کا نئے طریقے کار کے تحت آڈٹ اسلام آباد میں موجود امریکی سفارت خانے، پاکستان میں موجود امریکی فوجی افسران اور امریکی سینٹرل کمانڈ اور وزارتِ دفاع کے اعلی فائننشل حکام کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں کامیابی کے لیے پاکستان بہت اہم ہے۔

ایڈمرل مولن نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے نو دورے کیئے ہیں جن میں انہیں اس بات کا شدت سے احساس ہوا ہے کہ امریکہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاکستانی قوم کو یہ یقین دلائے کہ امریکہ طویل عرصے تک پاکستان کے ساتھ تعاون کرنے کا عزم رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں جو پروگرام ’اینہانسڈ پاٹنرشپ ود پاکستان ایکٹ آف 2009 ‘ میں شامل ہیں وہ امریکہ کے اس عزم کا ٹھوس ثبوت فراہم کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس طویل المعیاد بل سے پاکستان میں پائے جانے والے یہ خدشات کسی حد تک دور ہو جائیں گے کہ امریکہ اپنے مفادات پورے ہو جانے کے بعد پاکستان کو ایک مرتبہ پھر بھول جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت سے ملاقاتوں میں وہ ان خدشات کا بار ہا سامنا کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا ’ریکنسٹرکشن اینڈ اپرچونٹی بل‘ جس کو منظور کیئے جانے کی درخواست صدر اوباما نے کانگرس سے کی ہے پاکستان کے قبائلی علاقوں اور افغانستان میں نوکری کے مواقعے پیدا کرنے میں مدد گار ثابت ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اس بل سے اقتصادی طور پر پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کے لیے آمدن کے جائز اور قانونی طریقے فراہم کیئے جا سکیں گے اور وہ ناجائز طریقوں کی طرف راغب نہیں ہوں گے جن سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی وہ قلیل المدتی اقدامات میں پاکستانی فوج کی بغاوت سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے میں مدد دیتے رہیں گے۔