تمل علاقوں میں انتخابات کا وعدہ

سری لنکا کے وزیر برائے قومی مصالحت نے کہا ہے کہ جنگ سے متاثر تمل علاقوں میں لوگوں کی واپسی کے بعد جلد انتخابات کرائے جائیں گے۔
وزیر ونایاگامورتی مرلی دھرن خود تمل ہیں اور وہ تمل باغیوں کے ایک سابق کمانڈر ہیں جن کو کرنل کرونا کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وہ سنہ دو ہزار چار میں باغیوں کو چھوڑ کر حکومت کی جانب آگئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب انتخابات کا عمل جلد کرانا چاہیے تاکہ تمل آبادی کی مشکلات اور مسائل پر توجہ دی جا سکے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسٹر مرلی دھرن نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مستقبل میں ملک کے سیاسی عمل میں تملوں کی شراکت زیادہ ہو۔ان کا کہنا تھا کہ شمالی علاقوں میں بے دخل آبادی کی واپسی کے بعد انتخابات کرائے جائیں گے اور پارلیمان میں تملوں کا زیادہ کردار ہونا چاہیے کیونکہ ’ اگر ہم اپوزیشن میں ہی بیٹھے رہتے ہیں تو ہم اقلیتی آبادی کے لیے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔‘

وزیر نے تمل باغی کی تنظیم پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ مزاحمت اب ختم ہو گئی ہے کیونکہ ا س کے تمام سینیئر راہنما ہلاک ہو گئے ہیں۔ ’میرے خیال میں جنگ ختم ہو چکی ہے۔ یہ تیس سالہ جنگ ختم ہو گئی ہے کیونکہ ایل ٹی ٹی ای ایک شخص کے ارد گھومتی تھی اور وہ تھا ویلوپلائی پربھاکرن۔ تنظیم وہ کنٹرول کرتا تھا۔ اس نے کبھی کسی نائب کے لیے جگہ نہیں بنائی تھی۔ اب تنظیم کی قیادت اس کے ساتھ ختم ہو چکی ہے جو کہ حکومت کے لیے اچھا ہے کیونکہ اب اس گوریلا جنگ کو جاری رکھنے کے لیے کوئی جواز نہیں رہا۔‘
دوسری جانب دو بھارتی اہلکار تمل باغیوں کی شکست کے بعد کی صورتحال پر بات چیت کرنے کے یے سری لنکا پہنچ گئے ہیں۔ بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نرائن اور وزیر خارجہ شیو شنکر مینن سری لنکا کے صدر ماہندا راجا پاکسے سے شمال مشرق میں تمل علاقوں میں اختیارات کی نچھلے سطح منتقلی کے امکانات پر بات کریں گے۔
منگل کو صدر نے تمل باغیوں کی شکست اور جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا تھا اور باغی راہنما پربھاکرن کی لاش کی تصاویر جاری کی تھیں۔
تمل باغی شمال مشرقی سری لنکا میں ایک الگ ریاست کے قیام کے لیے پچھلے تیں عشروں سے لڑ رہے تھے۔ اس لڑائی میں تقریباً اسی ہزار افراد ہلاک اور ہزاروں بے دخل ہوئے ہیں۔


















