یورپی معاہدے پر روس کی تشویش

روس کے صدر دمتری میدیی ایدف نے یورپی یونین کو خبردار کیا ہے کہ وہ سابق سوویت ممالک کے ساتھ ایک مجوزہ معاہدے کے ذریعے روس کے خلاف کام کرنے کی کوشش نہ کرے۔
روسی صدر نے یہ بات روس اور یورپی یونین کے ایک سربراہی اجلاس کے اختتام پر کہی۔ اس اجلاس میں سکیورٹی، تجارت اور انرجی کی فراہمی کے معاملات پر روس اور یورپی ممالک کے اختلافات سامنے آئے ہیں۔
ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس اجلاس میں یورپ کو روس سے گیس کی فراہمی کے معاملے پر سب سے زیادہ تشویش کی اظہار کی گئی۔ جنوری میں روس کی یوکرین کے ساتھ گیس کی قیمتوں پر اختلاف پر یورپ کو گیس کی فراہمی معطل کر دی گئی تھی۔
سربراہی اجلاس کے اختتام پر ایک اخباری کانفرنس میں روسی صدر نے یورپی یونین کے سابق سوویت ممالک کے ساتھ معاہدوں پر خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ یہ مشرقی پارٹنرشِپ روس مخالف ایک پارٹنرشِپ بن جائے، کیونکہ اس کی کئی مثالیں سامنے آرہی ہے۔‘ روسی صدر کا کہنا تھا اس میں کئی ایسے ممالک شامل ہیں جو روس مخالف سوچ رکھتے ہیں۔ روس نے پہلے بھی ستائیس ممبر پر مشتمل یورپی یونین پر الزام لگایا ہے کہ وہ چھ سابق سوویت ریاستوں کے ساتھ قریبی روابط کے ذریعے یورپ کے اندر نئی صف بندیاں قائم کر رہا ہے۔
پچھلے ہفتے یورپی یونین نے چھ سابق سوویت ممالک کے ساتھ قریبی سیاسی اور اقتصادی رابطوں کے لیے ایک منصوبہ شورع کیا تھا۔ ’ایسٹرن پارٹنرشِپ انشیئٹیو‘ نامی اس اشتراک کے تحت ان چھ ممالک کو مستقبل میں یورپی یونین میں رکنیت کا موقع مل سکے گا۔ ان چھ ممالک میں آرمینیا، آزربائیجان، بلارس، جارجیہ، مولدووا، اور یوکرین شامل ہیں۔
روس اور یورپ کے تعلقات پچھلے ایک سال میں بہتر ہونے کے بجائے بگڑتے نظر آ رہے ہیں۔
روس اور جارجیا کے درمیان جنگ اور پھر یورپ کو گیس کی معطلی نے اس رشتے کو اور کشیدہ بنا دیا ہے۔


















