’امریکہCO2 اہداف پورے نہیں کرے گا‘

امریکہ کے انرجی سیکرٹری پروفیسر سٹیون چو نے کہا ہے کہ سیاسی مخالفت کی وجہ سے امریکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کم کرنے سے متعلق اہداف کو حاصل نہیں کر سکے گا۔
امریکہ کے انرجی سیکرٹری سٹیون چو نے بی بی سی سے انٹرویو میں اس خدشے کا اظہار کیا کہ دنیا شاید موسمیاتی تبدیلی کے حوالے خطرے کے قریب پہنچ رہی ہے۔
موسمیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی کے انرجی سیکرٹری کو سائنسی حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے نہ کہ ملکی سیاست کو۔ امریکی سیکرٹری انرجی نوبل انعام یافتہ ماہر طبعیات ہیں
امریکہ میں ماحول سے متعلق پالیسی پر شدید بحث جاری ہے۔ امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے کہ وہ گرین ہاؤس گیسوں میں کمی چاہتے ہیں لیکن انہوں نے یہ کام کانگریس کے سونپ رکھا ہے۔
امریکہ میں ایوان نمائندگان ماحول اور موسم سے متعلق قانون سازی پر غور کر رہے ہیں۔ اگر ایوان نمائندگان نے کوئی ایسا بل پاس بھی کر لیا جس سے سی او ٹو کو کم کرنے کے ہدف مقرر کیا جائے تو سینٹ اس کو نامنظور کر سکتی ہے کیونکہ کئی سینیٹروں کو انرجی صنعت سے فنڈز ملتے ہیں۔
امریکی سیکرٹری انرجی نوبل انعام یافتہ ماہر طبعیات ہیں اور صاف ستھری انرجی کے ماہر تصور کیےجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا سیاسی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
پروفیسر چو نے کہا کہ ہر سال ماحول سے متعلق منفی خبریں سامنے آتی ہیں اور دنیا میں یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ دنیا اور بالخصوص امریکہ کو ماحول کی بہتری کے لیے کچھ ضرور کرنا ہوگا۔
امریکی انرجی سیکرٹری نے کہا کہ پچھلے پانچ سالوں میں ماحول سے متعلق آگاہی زیادہ آئی ہے 'لیکن اگر میں کہوں کہ ہمیں (ماحول) کے لیے بہت کچھ کرنا ہو گا تو مجھے ڈر ہے ہے کہ یہ عمل شروع ہی نہیں ہو گا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ سو او ٹو سے متعلق معاہدے کرنے کےلیے صنعت کاروں کی یہ سہولت دینا پڑے گی کہ وہ کوئلے سے چلنے والے پاور سٹیشن لگا لیں۔انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ کیا کوئلے سے چلنے والی پاور سٹیشنوں سے نکلنے والے کاربن ڈائی ایکسائیڈ کو کنٹرول کرنے صنعت کاروں کی ذمہ داری ہو گی یا نہیں۔
امریکی سیکرٹری نے کہا کہ امریکہ کو بڑی عمارتوں میں انرجی کی کھپت کا اسی فیصد بچانا ہوگا۔ متبادل انرجی کے طور پر شمسی توانائی اور پن بجلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی ایک ایسا آپشن ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے لیکن فل الحال شمسی توانائی پر اٹھنے والے اخراجات بہت زیادہ ہیں اور ان کو سستا بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سورج سے نکلنے والے انرجی کا بیس فیصد حصہ استعمال کر لیا جائے تو ساری دنیا کی انرجی کی ضرورت پوری ہو سکتی ہے اور اس کے لیےخطہ زمین پر صحراؤں کا صرف پانچ فیصد حصے کی ضرورت ہے۔ امریکی انرجی سیکرٹری نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ دنیا میں کساد بازاری کی وجہ سے انرجی سیکٹر میں زیادہ سرمایہ کاری نہیں ہو رہی ہے جس سے انرجی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔






















