قیام امن، وقت تیزی سے گزر رہا ہے

Image
وقت اشاعت

غرب اردن کے علاقے رملہ میں گزشتہ گرمیوں میں فلسطینی صدر محمود عباس اور امریکہ کے صدر براک اوباما آخری مرتبہ ملے تھے تو براک اوباما نے محمود عباس سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ امریکہ کے صدر منتخب ہونے میں کامیاب ہو گئے تو وہ مشرق وسطی میں قیام امن کے لیے ان کے ساتھ یا شریک ہوں گے۔

ایک سال بعد اوباما وائٹ ہاؤس منتقل ہو چکے ہیں اور وہ پوری کوشش میں ہیں کہ مشرق وسطی میں قیام امن کے عمل کو دوبارہ شروع کیا جا سکے۔ ان ساری کوششوں میں ان کے ذہن میں یقیناً یہ خیال آتا ہوگا کہ کیا محمود عباس واقعی ہی اس قابل ہیں کہ وہ قیام امن کے اس عمل میں ان کے شریک بن سکیں۔

جب یہ دونوں راہنما مذاکرات کے لیے بیٹھیں گے تو صدر اوباما اپنے سامنے منقسم لوگوں کے ایک ایسے لیڈر کو پائیں گے جس کا سیاسی اختیار فلسطینی علاقے کے صرف ایک چھوٹے سے حصے تک محدود ہے اور صدر کے طور پر جس کی حیثیت چند لوگوں کی نظر میں اس سال جنوری میں ختم ہو چکی ہے۔

غزہ میں حماس اب بھی مستحکم ہے اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر محمود عباس تمام فلسطینیوں کو اپنے ساتھ لے کر چلنے کے قابل نہیں ہیں تو پھر ان سے امن مذاکرات شروع کرنے کا کوئی مقصد نہیں۔

واشنگٹن حماس کو تسلیم نہیں کرتا اور اسے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔ براک اوباما اگر مذاکرات شروع کرنا چاہتے ہیں تو پھر محمود عباس ہی فلسطینیوں کی طرف سےواحد مذاکرات کار موجود ہیں۔

کچھ کوششوں سے ہو سکتا ہے کہ فلسطین کی اندرونی سیاست میں کوئی تبدیلی آ جائے۔

امریکہ میں اردن کے سفیر پرنس زید راد الحسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان مذاکرات کے مثبت اثرات سامنے آنے شروع ہو جاتے اور مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کی تعمیر جیسے حساس معاملے پر کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو پھر عربوں اور اسلامی ملکوں کی اکثریت ان کے ساتھ آ کھڑی ہو گی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ’ہمیں وہ امن معاہدہ دکھایا جائے، ایک ایسی دستاویز اور میرے خیال میں محمود عباس بھی ایسی دستاویز دیکھنا چاہیں گے جس کی بنیاد پر وہ فلسطینی عوام سے یہ کہہ سکیں کہ اس معاملے کو حل کرنے کے لیے یہ متبادل موجود ہے۔‘

مشرق وسطی کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس صورت میں حماس کے لیے بھی یہ مشکل ہو جائے گا کہ وہ قیام امن کے لیے ہونے والے مذاکرات کی مخالفت کر سکے۔

کچھ نہ کچھ حاصل کرکے اپنی حیثیت کو بہتر بنانے کے لیے محمود عباس کسی بڑے مطالبے کے ساتھ نہیں آئے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ اسرائیل یہودی بستیاں تعمیر کرنے کی تمام سرگرمیاں معطل کر دے اور غرب اردن کو آنے والے راستوں پر رکاوٹیں ہٹا دی جائیں۔

Image

گزشتہ کئی برس کے بعد محمود عباس اس مرتبہ امریکی انتظامیہ کا جھکاؤ فلسطینیوں کے درینہ مطالبہ کی طرف پائیں گے۔

اس ہفتے امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اپنے مصری ہم منصب احمد ابول غیث سے بات چیت کے بعد اسرائیل سے کہا تھا کہ وہ بغیر کسی استثنیٰ تمام یہودی بستوں کی تعمیر روک دے۔

ہیلری کلنٹن نے کہا کہ صدر اوباما نے بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات میں واضح طور پر کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ تمام تعمیرات کو روک دیا جاے، چاہے وہ بستیاں ہوں، چوکیاں ہوں یا آبادی کے قدرتی پھیلاؤ کی وجہ سے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم جس کوشش میں لگے ہوئے ہیں اس کے لیے ضروری کہ تعمیرات روک دی جائیں۔ یہ ہمارا موقف ہے۔ اور یہ ہی ہم نے بڑے واضح طور پر نہ صرف اسرائیل کو بلکہ فلسطینیوں اور دوسروں کو بھی بتا دیا ہے۔ اور ہم اس پر زور دیتے رہیں گے۔‘

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پہلے ہی امریکہ کے اس مشورے کو رد کر چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ آبادی کے قدرتی پھیلاؤ کی وجہ سے ہونے والی تعمیرات جاری رہیں گی۔

دونوں قریبی اتحادیوں کےدرمیان یہ پہلا موقع ہے کہ سرعام اختلاف پیدا ہوئے ہیں اور صدر بش کے آٹھ سالہ دور کے مقابلے میں یہ بالکل مختلف صورت حال ہے۔

بن یامین نیتن یاہو جب گزشتہ ہفتے واشنگٹن آئے تھے تو انہوں نے اوباما حکومت کے حمایت یافتہ دو ریاستی حل کے حق میں سر عام بیان دینے سے اجتناب کیا تھا۔

اُن کے اپنے مطالبے تھے۔ اپنے ملک کا تحفظ اور اس کے قائم رہنے کے حق کو تسلیم کیا جانا۔

عرب ممالک نے سن دو ہزار دو میں سعودی عرب کی طرف سے تجویز کردہ امن معاہدے کے تحت کہا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے اس معاہدے کو مان لینے کی صورت میں تمام کے تمام بائیس عرب ملک اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے۔

اردن کے شاہ عبداللہ نے یہاں تک کہا تھا کہ اسلامی ملکوں کی تنظیم کے ستاون کے ستاون رکن ممالک اس میں شامل ہو جائیں گے۔

اسرائیل چاہتا ہے کہ عرب بھی تعلقات بہتر بنانے کا اظہار کریں اور کچھ اعتماد سازی کے لیے اقدامات کریں جن میں اسرائیل کے ساتھ تجارتی روابط کا کھولے جانا اور اسرائیل کی فضائی کمپنی ایل آل کے طیاروں کی اپنی فضائی حدود میں اڑان کی اجازت دیں۔

واشنگنٹن میں اردن کے سفیر نے کہا کہ عرب ممالک اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ وہ ممکنہ طور پر ایسے کیا اقدامات کر سکتے ہیں جس سےامن کی طرف پیش رفت میں آسانی پیدا ہو سکے لیکن انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے وہ مذاکرات کے عمل کو شروع ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

نیتن یاہو ایک نئے مطالبے کے ساتھ امریکہ آئے تھے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو لگام ڈالی جائے اور انہوں نے صدر اوباما پر یہ واضح کر دیا کہ یہ ان کی سب سے پہلی ترجیح ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بہت سے عرب ملک بھی شیعہ ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش کا شکار ہیں۔

یہ باہم متصادم مفادات کا معاملہ ہے لیکن دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی پیچیدہ بھی ہے۔

امریکن ٹاسک فورس فار فلسطین کے زید اسلی کا کہنا ہے کہ عرب ملک فلسطین کے معاملے پر کچھ حاصل کیئے بغیر ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے کہا ایسی صورت حال میں بہت خوف ناک عوامی رد عمل سامنے آ سکتا ہے اور وہ اس کا سامنا نہیں کر پائیں گے۔

سر پر منڈلانے والے خطرے کا یہ ایک اور اشارہ ہے۔ امن کے عمل کو شروع کرنے کے لیے وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ کچھ لوگ خبردار کرتے ہیں کہ اگر امن معاہدہ نہ ہو سکا تو اگلے اٹھارہ مہینوں میں جنگ کی بات پھر شروع ہو جائے گی۔

ہو سکتا ہے کہ اس خطرے کا احساس متعلقہ لوگوں کی توجہ امن کے عمل پر مرکوز رکھے۔

براک اوباما اور محمود عباس کے مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی سے صرف اسرائیل اور فلسطین کے مستقبل ہی وابستہ نہیں بلکے پورے خطے کا امن ان سے وابستہ ہے۔

بہرحال ان مذاکرات کے نتیجے میں اگر محمود عباس کو کچھ حاصل ہوتا ہے جسے وہ اپنے عوام کے سامنے اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر سکیں وہ ہی امن کے عمل کے دوبارہ شروع ہونے کا ضامن بن سکے گا۔