اقوام متحدہ کا تحقیقات کا مطالبہ

سری لنکا
،تصویر کا کیپشندا ٹائمز اخبار کے مطابق جنگ کے آخری مرحلے میں سب سے زيادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں
وقت اشاعت

اقوام متحدہ ميں انسانی معاملات کے ایک اہم اہلکار جان ہومز نے مطالبہ کیا ہے کہ سری لنکا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیے جانے کے الزامات کی تحقیات کرائی جائے۔

شمال مشرقی سری لنکا میں تمل باغیوں کے خلاف فوج کی کارروائی میں ہزاروں شہریوں کے مارے جانے کے الزام عائد کیے جا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے بعد اب ایک برطانوی اخبار’دی ٹائمز‘ نے یہ دعوی کیا ہے کہ تمل باغیوں کے خلاف جنگ میں بیس ہزار سے زیادہ شہری مارے گئے ہیں۔

حالانکہ سری لنکا کی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ سری لنکا کے قومی سلامتی مرکز کے ایک اہم اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ الزامات بالکل غلط ہیں۔

جان ہومز نے کہا ہے ’ایک طرف تمل باغیوں پر یہ الزام ہے کہ پناہ لینے کے لیے انہوں نے شہری کیمپوں کا استعمال کیا اور وہیں ایک جانب فوج پر الزام ہے کہ اس نے رہائشی علاقے ميں بھاری اسلحہ کا استعمال کیا ہے۔‘

جان ہومز نے اس سلسلے میں بین الاقوامی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سے قبل بدھ کو اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے کمشینر نوی پلائی نے کہا تھا کہ لڑائی کے دوران دونوں جانب سے انسانی حقوق کو طاق پر رکھ دیا گیا تھا۔

حالانکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کاؤنسل میں تحقیقات کرانے سے متعلق قرارداد منظور نہیں ہو سکی تھی۔

امدادی ایجنسیوں کے مطابق حکومت نے کہا تھا کہ جنگ کے دوران شمالی علاقے میں صرف ایک لاکھ دس ہزار شہری پھنسے ہوئے ہیں جبکہ بعد میں وہاں سے ڈھائی لاکھ لوگ باہر نکلے۔

دی ٹائمز نے بعض تصاویر شائع کی ہیں جو بقول اخبار جنگی علاقے میں ہوئی تباہی کو پیش کرتی ہیں جہاں تقریباً ایک لاکھ افراد پناہ لیے ہوئے تھے۔