’تمل شہریوں کوگھروں میں بسائیں‘

سری لنکا کے سینئر سیاسی تمل رہنما نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ شہریوں کو جتنی جلدی ممکن ہو سکے واپس ان کےگھروں میں بسایا جائے۔
تمل یونائٹڈ لبریشن فرنٹ کے سربراہ وی آنندا سنگاری کا کہنا ہے کہ ملک میں جنگ سے بے گھر شہریوں کے لیے بنائے گئے کیمپوں میں صورتِ حال انتہائی’خوفناک‘ ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کیمپوں میں ہزاروں لوگ مشکلات اور بدحالی کا شکار ہیں۔
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے حکومت اور تمل باغیوں کے درمیان حالیہ لڑائی میں تقریباً تیس ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ان شہریوں کو متعدد کیمپوں میں رکھا گیا ہے جن سے زیادہ تر کیمپ شمالی قصبے واوونیاکے نزدیک واقع مینک فارم میں ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق مینک فارم کے کیمپوں میں تقریباً دو لاکھ بیس ہزار بے گھر افراد رہ رہے ہیں۔وی آنندا سنگاری چند معتدل تمل سیاسی رہنما ہیں۔ باغیوں کے خلاف حکومت کے موقف کی زبردست حامیوں میں سے ایک ہیں۔
وی آنندا سنگاری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کیمپوں میں صحت، پانی کی قلت کے سبب لوگ نہا نہیں پا رہے جس سے لوگوں کو جلد کی بیماریاں ہو رہی ہیں۔
شدید گرمی کے سبب بچے اور حاملہ خواتین سخت تکلیف سے گزر رہے ہیں۔سری لنکا کی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ کچھ کیمپوں کے حالات اچھے نہیں ہیں لیکن بنیادی سہولیات کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور ان کیمپوں میں بھیڑ کو کم کرنے کے لیے مزید زمین کا انتظام کیا جا رہا ہے تاکہ نئے کیمپ لگائے جا سکیں۔
اقوامِ متحدہ اور دیگر امدادی ایجنسیوں نے ان کیمپوں تک بہتر رسائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بہتر انداز میں امدادی کام کیے جا سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















