مشرقِ وسطیٰ مذاکرات، اوباما پُر امید

امریکہ کے صدر براک اوباما نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کا ملک مشرقِ وسطیٰ پر سنجیدہ مذاکرات دوبارہ کرانے میں مدد دے سکتا ہے۔
امریکی صدر نے یہ بات مشرق وسطیٰ اور یورپ کے دورے سے پہلے بی بی سی کو اپنا پہلا انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ وہ سال کے آخر میں ایران کے ساتھ بھی ’سخت اور براہ راست‘ سفارتکاری کے ذریعے مذاکرات میں بہتری کی امید رکھتے ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا دوسرے ممالک پر اپنی اقدار مسلط کرنے کی بجائے امریکہ کو رول ماڈل یعنی اچھی مثال قائم کرنے والا ملک بننا چاہیئے۔
بی بی سی کے شمالی امریکہ کے ایڈیٹر جسٹن ویب سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ ’انہیں یقین ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور فلسطینیوں کے کے درمیان سنجیدہ مذاکرات دوبارہ شروع کرانے میں کامیاب ہو جائے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ نا صرف فلسطینیوں کے حق میں ہے کہ انہیں ایک ملک ملے بلکہ یہ اسرائیلی عوام کے حق میں بھی ہے کہ وہاں صورتِ حال بہتر ہو۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ اسرائیل نے یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کی ان کی اپیل مسترد کر دی ہے تو انہوں کہا کہ ابھی صبر کرنا چاہیئے کیونکہ ابھی بات چیت شروع ہوئی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے متعلق اسرائیل کو انہیں قائل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’میں یہ کہتا ہوں کہ یہ دنیا کے مفاد میں ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے عزائم ترک کر دے‘ اور ایسا کرنے کا بہترین طریقہ ’سخت براہ راست سفارتکاری‘ ہے۔
صدر اوباما بدھ کو اپنے مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے دورے کے پہلے مرحلے میں سعودی عرب پہنچ رہے ہیں۔ اس کے بعد چار جون کو وہ مصر جائیں گے جہاں وہ امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ تعلقات پر ایک اہم تقریر کریں گے۔ اس کے بعد امریکی صدر ڈی ڈے تقاریب میں شرکت کے لیے یورپ روانہ ہو جائیں گے۔






















