روم: عجائب گھر پر رنگوں سے حملہ

اس میوزیم کو امریکی آرکیٹیک نے ڈیزائن کیا تھا
،تصویر کا کیپشناس میوزیم کو امریکی آرکیٹیک نے ڈیزائن کیا تھا
وقت اشاعت

روم کے متنازعہ جدید میوزیم آرا پیسیس کی عقبی دیوار پر نامعلوم افراد نے ہرا اور سرخ رنگ پھینک کر اسے خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔

وہ میوزیم کے باہر ایک بیت الخلاء اور ٹائیلٹ پیپرز بھی چھوڑ گئے ہیں۔ رنگوں کو صاف کرنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

اس میوزیم کو ایک امریکی آرکیٹیک ریچرڈ میئر نے ڈیزائن کیا تھا اور سنہ دوہزار چھ میں آگسٹس بادشاہ کے سنگ مرمر سے بنے قربانی کے تختے کو رکھنے کے لیے کھولا گیا تھا۔

کافی لوگوں کا خیال ہے کہ روم کے تاریخی مرکز میں یہ عمارت انتہائی جدید اور وسیع ہے اور دوسری عمارتوں سے بالکل میل نہیں کھاتی ہے۔

نیویارک کے مشہور آرٹسٹ جولین شنابیل نے میوزیم کو ایک ’ائیر کنڈیشننگ روم‘ قرار دیا تھا۔جبکہ گزشتہ سال روم کے نو منتخب میئر گیانی الیمانو نے کہا تھا کہ وہ اس میوزیم کو شہر کہ مضافات میں منتقل کرنے کے لیے استصواب رائے کرائیں گے۔

آلٹر ٹو پیس یا امن کی قربان گاہ کو آگسٹس کے ’گال‘ اور سپین کے قبیلوں پر فتح کے یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔

اس قربان گاہ کے ٹکڑے سولہویں صدی سے دریافت ہو رہے ہیں۔ پہلی دفعہ ان کو اکھٹا کروا کے مسولینی نے انیس سو اڑتیس میں نمائش کے لیے رکھوایا تھا۔

انیس سو اسی میں روم کی گرمی سے اس قربان گاہ کی شکست و ریخت شروع ہو گئی تھی جس کے بعد اس کے لیے ایک نئے میوزیم کی ضرورت محسوس کی گئی۔

باجود اس کے کہ دریائے ٹائبر کے کنارے بنے اس میوزیم کی بیرونی آرائش کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اس کے اندرونی حصے کو مناسب روشنی اور شیشوں کے استعمال کی وجہ سے نہایت سراہا گیا۔

یہ میوزیم سیاحوں میں بھی نہایت مقبول ہے۔