آئیے تعلقات کا نیا باب کھولتے ہیں: اوباما

صدر اوباما نے یہ تقریر قاہرہ یونیورسٹی میں کی
،تصویر کا کیپشنصدر اوباما نے یہ تقریر قاہرہ یونیورسٹی میں کی
وقت اشاعت

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ اسلامی دنیا کے ساتھ حالت جنگ میں نہیں ہے اور ' بد اعتمادی‘ کی فضا کو ختم کرنے کی کوشش کرنی ہو گی۔

امریکی صدر نے قاہرہ یونیورسٹی میں مسلمانوں سے خطاب کے دوران کہا کہ یہ تاثر غلط ہےکہ امریکہ اسلامی دنیا کے خلاف حالت جنگ میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیا میں شدت پسندوں کی اقلیت نے بداعتمادی سے فاہدہ اٹھایا۔’ نائن الیون کے حملوں اور مسلسل تشدد کی کاروائیوں کی بنیاد پر میر ے ملک میں بھی کچھ لوگوں نے یہ خیال اپنا لیا کہ اسلامی دنیا کا امریکہ کے بارے میں معاندانہ رویہ ہے‘۔

براک اوباما نے کہا کہ امریکہ نہ افغانستان میں اپنی فوج رکھنا چاہتا ہے اور نہ ہی اس کو وہاں کسی اڈے کی ضرورت ہے۔'کوئی غلط فہمی میں نہ رہے کہ امریکہ افغانستان میں اپنی فوج کو ہمیشہ کے لیے رکھنا چاہتا ہے اور نہ ہی ہمیں وہاں اڈوں کی ضرورت ہے۔ نوجوان فوجیوں کی زندگی قربان کرنا بہت ہی تکلیف دہ عمل ہے ۔ یہ سیاسی اور معاشی طور پر بہت مہنگی ہے۔‘

امریکی صدر نے کہا اگر انہیں یقین ہو جائے کہ افغانستان اور اب پاکستان سے متشدد لوگ ختم ہو گئے ہیں تو وہ اپنا ایک فوجی بھی افغانستان میں نہیں رکھنا چاہیں گے۔ براک اوباما نے کہا کہ وہ اسلامی دنیا اور امریکہ کے تعلقات میں ایک ایسے نئے دور کا آغاز کرنے آئے ہیں جو باہمی مفادات اور عزت پر مبنی ہو۔امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کا تعلق اٹوٹ ہے اور فلسطینوں کو تشدد کا راستہ چھوڑنا ہوگا۔' تشدد کے ذریعےمزاحمت غلط ہے اور یہ کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔‘

انہوں نے اسرائیلوں سے کہا کہ وہ فلسطین کے وجود کو تسلیم کریں۔انہوں نے کہا کہ یہودی بستیوں میں توسیع کے عمل کو روکے بغیر فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے پر کوئی پیشرفت ممکن نہیں ہے۔

اسرائیل کو اعتراف کرنا ہوگا جس طرح اس کے حق ِوجود سے انکار نہیں کیا جاسکتا اسی طرح فلسطین کا حق نہیں چھنینا جاسکتا۔ امریکہ مسلسل اسرائیلی یہودی بستیوں کو کبھی جائز نہیں سمجھے گا اس تعمیر سے ماضی کے معاہدوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور قیام امن کی کوششوں کو ماند کرتی ہے وقت آگیا ہے کہ جب اسرائل کو ان بستیوں کی تعمیر بند کرنی ہوگی

امریکی صدر نے کہا کہ یہودیوں کی نسل کشی کی حقیقت کو نہ ماننا انتہائی غلط ہے۔انہوں نے کہا فلسطینوں کی موجودہ حالت ناقابل براشت ہے

صدر براک اوباما نے مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے کہ ایک شخص کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے اور ایک شخص کو بچانا ساری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ سچ بولیں۔‘

انہوں نے کہا مسلمانوں کو امریکہ کے بارے میں اپنی رائے کو بدلنا ہوگا اور یہودیوں کے بارے میں گھسے پٹے خیالات سےجان چھڑانی ہوگی۔انہوں نے کہا فلسطین کے مسئلے کا حل دو ریاستی منصوبے میں ہے۔

امریکی صدر نے تسلیم کیا کہ ایک تقریر سے سالوں کا بداعتمادی دور نہیں ہو سکتی اور نہ وہ مشکل سوالوں کے جواب دے سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ آگے چلنے کے لیے وہ سب باتیں ایک دوسرے سے کہنی ہوں گی جن کو ہم نے دل میں بند کر رکھا ہے۔ اور ہم یہ باتیں بند صرف بند دروازوں کے پیچھے کرتے ہیں۔’ہمیں ایک دوسرے کی باتیں سننے کی عادت ڈالنا ہوگی اور ایک دوسرے سے سیکھنا ہوگا۔ ایک دوسرے کی عزت کرنی ہوگی اور ایک مشترکہ سوچ پیدا کرنی ہوگی۔‘

امریکی صدر نے کہا کہ بہت آنسو بہہ چکے ہیں بہت خون بہایا گیا ہے ہم سب پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اُس لمحے کے لیے مل کر کام کریں جب اسرائیل اور فلسطین کی مائیں اپنے بچوں کو ڈر اور خوف کے بغیر پلتے دیکیھں جب تین بڑے مذاہب کا منبع یہ مقدس سرزمین امن کی پناہ گاہ بن جائے جس کے لیے خدا نے اس کو بنایا تھا جب یروشلم یہودیوں مسلمانوں اور عیسایوں کے لیے محفوظ گھر بن جائے ابراہیم کی اولاد کے لیے امن کا مقام بن جائے۔

ایران کے بارے امریکی صدر نے کہا کہ کئی برسوں سے ایران نے امریکہ کی مخالفت کو اپنا تشخص بنا لیا ہے ۔

صدر اوباما نے کہا کہ دونوں کے درمیان کشیدگی سے بھر پور تاریخ رہی ہے۔ سرد جنگ کے وسط میں امریکہ نے ایران کی جمہوری حکومت گرانے میں نمایاں کردار ادا کیا مگر اسلامی انقلاب کے زمانے سے ایران نے امریکیوں کو یرغمال بنانے، فوج اور شہریوں پر تشدد کرنے کی پالیسی اپنائی۔ تاریخ سب کو یاد ہے۔

’ماضی میں پھنسے رہنے کے بجائے میں نے ایرانی رہنماؤں سے صاف اور واضح الفاظ میں کہا ہے کہ میرا ملک آپ کے ساتھ چلنے کو تیار ہے۔ سوال اب یہ نہیں کہ ایران اب کس کا مخالف ہے۔ بلکہ سوال یہ ہونا چاہیے کہ ایران کس طرح کا مستقبل چاہتا ہے۔‘