جہاز کا ملبہ اوردو لاشیں ملی گئیں

برازیل کی فضائیہ نے کہا ہے کہ بحرہ اوقیانوس کے اوپر گزشتہ پیر کو لاپتہ ہونے والے ائیر فرانس کے ہوائی جہاز کا کچھ ملبہ اور دو مسافروں کا لاشیں ملی ہیں۔
ان لاشوں کو برازیل کے ساحل کے قریب جزائر فرناندو دی نورونہا کے شمال مشرق میں قریب آٹھ سو کلومیٹر دور سمندر سے اٹھایا گیا ہے۔
لاشوں کی جانچ پڑتال کرنے کے لیے مخصوص ماہرین روانہ کردیئے گئے ہیں۔
خیال ہے کہ فلائیٹ اے ایف چار چار سات کے دو سو اٹھائیس مسافر اور عملے کے ارکان اس وقت ہلاک ہوگئے تھے جب یہ جہاز رو ڈی ژینیرو سے پیرس آتے ہوئے بحیرہ اوقیانوس کے اوپر پیر کے روز لاپتہ ہوگیا تھا۔
ہفتے کے روز برازیل کی فضائیہ کے ترجمان ژورگے امارل نے شمالی شہر راسیفے میں صحافیوں کو بتایا۔ ہم تصدیق کرتے ہیں کہ سمندر سے ملنے والی لاشیں اور ملبہ گمشدہ ائیر فرانس کے جہاز کا ہے۔
ترجمان نے بعد میں مزید بتایا کہ دو مرد مسافروں کی لاشوں کے علاوہ ایسی اشیاء بھی ملی ہیں جن کا تعلق جہاز کے مسافروں سے ہے۔

ان اشیاء میں جہاز کے ٹکٹ کے ساتھ ایک سوٹ کیس اور ایک ایسا کندھے پر لٹکانے والا بیگ بھی شامل ہے جس کے اندر ایک کمپوٹر ہے۔
کرنل امرال نے بتایا ہے کہ ائیر فرانس نے تصدیق کی ہے کہ ٹکٹ کے نمبر سے تصدیق ہوئی ہے کہ یہ ٹکٹ لاپتہ جہاز کے ایک مسافر کا ہے۔ جہاز کی نیلے رنگ کی ایک نشست بھی ملی ہے جس کے سیریئل نمبر کی فضائی کمپنی یہ جاننے کے لئے پڑتال کررہی ہے کہ آیا یہ لاپتہ جہاز کی ہی ہے یا نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لاشیں سمندر میں جہاں سے ملی ہیں وہ مقام اس جگہ سے دور نہیں جہاں سے آخری مرتبہ جہاز سے سگنل موصول ہوئے تھے۔
ساؤ پالو میں موجود صحافیوں کا خیال ہے کہ اب تک تلاش کا محور فلائیٹ ڈیٹا ریکارڈر رہے ہیں جن سے سونار بیکن منسلک ہوتے ہیں۔ لیکن فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ اس امر کی کوئی ضانت نہیں کہ یہ سونار بیکن جو ہر تھوڑی دیر بعد ایک خودکار ریڈیو سگنل نشر کرتے ہیں ان ڈیٹا ریکاڈروں سے بدستور منسلک ہوں کیونکہ یہ جہاز کے پانی سے ٹکرانے پر علیحدہ بھی ہوسکتے ہیں۔
حکام نہیں جانتے کہ کن وجوہات کی بناء پر یہ پرواز مشکلات میں گرفتار ہوئی لیکن یہ درست ہے کہ اس حادثے کے وقت جہاز ایک طوفان سے گزررہا تھا۔ حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ تباہ ہونے سے زرا پہلے جہاز سے چوبیس تکنیکی خرابیوں کے خودکار الیکٹرونک پیغامات موصول ہوئے تھے۔
فلائٹ ڈیٹا ریکاڈروں کی تلاش کے لئے ایک ایسی فرانسیسی آب دوز کو علاقے میں بھیجا گیا جو سونار سگنل پہچان سکتی ہے۔ امریکہ بھی تلاش میں مدد کے لئے خصوصی آلات بھیج رہا ہے۔






















