انتخابی سیاست اور ملکی معیشت

احمدی نژاد بدعنوانیوں کو ختم کرنے پرزور دے رہے ہیں
،تصویر کا کیپشناحمدی نژاد بدعنوانیوں کو ختم کرنے پرزور دے رہے ہیں
    • مصنف, ثقلین امام
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، تہران
  • وقت اشاعت

ایران کے دسویں صدارتی انتخابات انقلاب اسلامی ایران کے بانی آیت اللہ سید روح اللہ خمینی کے انتقال کے بیس برس بعد ہورہے ہیں۔ ان کے انتقال کے وقت ایران ایک طویل جنگ لڑنے کے بعد سنبھلنے کی کوشش کررہا تھا اگرچہ اس پر بین الاقوامی پابندیاں عائد تھیں۔

آیت اللہ خمینی کے انتقال کے بعد اس وقت کے صدر سید علی خامنہ ای کو ان کا جانشین نامزد کیا گیا اور ان کی خالی ہونے والی صدارتی کرسی کیلئیے اس وقت کے ایرانی پارلیمان کے سپیکر، ہاشمی رفسنجانی کو صدر منتخب کر لیا گیا۔

آیت اللہ خمینی کی قد آور شخصیت اور انقلاب کے تازہ تازہ جوش و ولولے اور عراق سے جنگ کی وجہ سے ان کی زندگی میں ایران میں کئی معاملات میں باقاعدہ حکمت عملی بنانے اور ان پر عمل پیرا ہونے کے بجائے عارضی یا ایڈہاک پالیسیوں پر ایک حسن ظن کے ساتھ کام کیا گیا۔

تاہم ان کے انتقال کے بعد جب ہاشمی رفسنجانی صدر بنے تو انہوں نے ایران کی اقتصادی ترقی کیلئیے ایران سے بھاگ جانے والے سرمایہ داروں کو واپس لانے کیلئیے کئی مراعات دیں۔ نجکاری کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس طرح رفسنجانی نے دولت کے ارتکاز والے ماحول کو تیزی سے پنپنے کا موقع دیا جو کہ آج کے اقتصادی ترقی کے فلسفوں کے مطابق ایک درست اقدام سمجھا جاتا ہے۔

ان کی حکومت آٹھ برس تک قائم رہی جس کے دوران چند ایک بڑے بڑے گروہوں کے پاس ایران کی نجی دولت کا ارتکاز ہوگیا اور انہوں نے اتنی طاقت حاصل کرلی کہ بظاہر کسی بھی حکومت کیلئیے ان پر ہاتھ ڈالنا مشکل ہوگیا۔ اس طرح ایران کے امیر علما اور سرمایہ داروں کے اتحاد کی ایک نئی شکل سامنے آئی جس نے اپنی سیاسی اور اقتصادی قوت کو مزید تیزی سے بڑھانا شروع کیا۔

ان انتخابات میں عوام کی طرف سے زبردست دلچسپی ظاہر کی جا رہی ہے
،تصویر کا کیپشنان انتخابات میں عوام کی طرف سے زبردست دلچسپی ظاہر کی جا رہی ہے

تاہم اس دوران انقلاب کی وجہ سے شاہ کے زمانے میں بری طرح پسے ہوئے عوام کو بہر حال سیاسی، سماجی اور اقتصادی فائدے بھی ہوئے۔ نئے نئے سکول اور ہسپتال تعمیر ہوئے، کم آمدنی والے طبقوں کے علاقوں میں گیس، بجلی اور پانی کی بنیادی سہولتیں آئیں۔ مگر سیاسی اور اقتصادی طاقت کا پلڑا چند بڑوں کی طرف جھک گیا۔

انیس سو ستانوے میں رفسنجانی تیسری مرتبہ انتخاب نہیں لڑ سکتے تھے۔ لہٰذا میدان اب نئے امیدواروں کیلئے خالی تھا۔ سید محمد خاتمی نے اس وقت کی پارلیمان کے سپیکر ناطق نوری کے خلاف صدارتی انتخاب لڑا تھا جو اس وقت ہاشمی رفنسجانی کے سیاسی جانشین سمجھے جارہے تھے۔

مگر ایرانی عوام نے خاتمی کو تبدیلی کی ایک علامت کے طور صدر منتخب کیا۔ خاتمی نے تبدیلیوں کی کوشش تو کی اور وہ کافی حد تک سیاسی آزادیاں دینے میں کامیاب بھی رہے مگر وہ چند بڑوں کی طاقت کو قابو میں لانے میں ناکام رہے۔ اس طرح جو طبقہ یا پالیسیاں رفسنجانی کے دور سے شروع ہوئی تھیں انہیں خاتمی بدلنے میں کامیابی حاصل نہ کرسکے۔

اور جب وہ اپنی دو صدارتی معیادیں پوری کرنے کے بعد انتخابی میدان سے ہٹے تو رفسنجانی پھر میدان میں اترے۔ مگر ایرانی عوام نے ایک بالکل ہی نئے امیداوار، یعنی محمود احمدی نژاد، کو صدر منتخب کرلیا کیونکہ انہوں نے مالی بدعنوانی اور دولت کا ارتکاز ختم کرنے کا نعرہ لگایا جو امیر علماء اور سرمایہ داروں کے اتحاد کےلیے ایک چیلینج سمجھا گیا۔

اپنی صدارتی معیاد کے پہلے چار برسوں میں وہ چند بڑوں کی اقتصادی طاقت کو قابو کرنے میں ناکام رہے اور ان کی حکومت پر بھی مالی بد انتظامی کا الزام لگایا گیا (ابھی تک ان پر بد عنوانی کا ایک ہی الزام لگا کہ ایک ارب ڈالرز کی تیل کی آمدن غائب ہے، تاہم اب یہ معلوم ہوا ہے کہ رقم غائب نہیں ہوئی بلکہ اکاؤنٹنگ کی غلطی تھی)۔ اس طرح بقول ایک ایرانی اقتصادی ماہر، رمین معتمد نژاد ، ایرانی معیشت گزشتہ بیس برسوں سے مختلف قسم کی مالی بد عنوانیوں یا بے ضابطگیاوں کا شکار چلی آرہی ہے جس کے نتیجے میں دولت اور اس کی ایک طبقے میں فروانی نے نہ صرف سیاسی مسائل پیدا کیے بلکہ عمرانیات کے ایک ایرانی ماہر کے مطابق، ایرانی معاشرے میں مادہ پرستی اور دولت کے ارتکاز پر مبنی اقدار کی فتح ہو گئی ہے۔

Image

ایسی حالت میں محمود احمدی نژاد دوسری صدارتی مدت کیلئیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں میر حسین موسوی کو ایک اچھا مالی منتظم اور انقلاب اسلامی ایران کی اقدار کی بحالی کےلئے کاوشیں کرنے والے رہنما کے طور پر لیا جارہا ہے۔ مگر جو طبقہ موسوی کو احمدی نژاد کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے وہ ان سے بھی گھبراتا ہے کیونکہ موسوی بھی دولت کے ارتکاز کے خلاف باتیں کررہے ہیں۔

اس وقت ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیچھے سب سے زیادہ احمدی نژاد کے خلاف آزاد خیال متوسط طبقے، سرمایہ داروں اور امیر علماء میں ان سے نجات حاصل کرنے کی مشترکہ خواہش کی بنیاد پر بننے والا اتحاد ہے۔ ظاہر ہے محمود احمدی نژاد کی سیاسی ساکھ ان کی اپنی خارجہ اور اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے بھی متاثر ہوئی ہے۔ مگر وہ ابھی تک بدعنوانی کے خلاف ایک آواز بنے رہنے کوشش کررہے ہیں۔

آیت اللہ خمینی کے انتقال کے بعد سے شروع ہونے والی اقتصادی پالیسیوں کے نتیجے میں اب ایرانی معیشت اس دھانے تک پہنچ چکی ہے جہاں عوام کی ایک بڑی تعداد قرضوں کے بوچھ تلے دبی ہوئی ہے اور ان کی حقیقی آمدنی کم ہوچکی ہے، اور ایسی حالت میں بقول اقتصادی ماہر، رمین معتمد نژاد، ایران کی موجودہ قیادت میں یا تو اخلاقی جرات نہیں ہے یا صلاحیت کا فقدان ہے کہ وہ چند بڑے بڑے گروہوں پر ہاتھ ڈالے جن میں سب سے بڑا سرمایہ داروں اور امیر علماء کا ایک اتحاد بھی ہے!