لبنان کے انتخابات اور عالمی سیاست

بیروت
،تصویر کا کیپشنجنگ سے تباہ حال عمارتوں پر انتخابی اشتہارات
    • مصنف, شاہ زیب جیلانی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بیروت
  • وقت اشاعت

لبنان کے سات جون کے عام انتخابات میں خطے کی علاقائی اور عالمی طاقتوں کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا یہ چھوٹا سا جمہوری ملک لمبے عرصے سے خطے کی علاقائی طاقتوں کی زور آزمائی کا اکھاڑہ رہا ہے۔ اسی لیے لبنان کے انتخابی نتائج پر لبنانیوں کے ساتھ ساتھ بیرونی دنیا بھی نظریں جمائے ہوئے ہے۔

ایک طرف سعودی، امریکی اور یورپی حلقوں میں تشویش ہے کہ کہیں مسلح شیعہ تنظیم حزب اللہ لبنان کی بڑی قوت ابھر کر سامنے نہ آ جائے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو کیا امریکہ لبنان کے ساتھ وہی کرے گا جو اُس نے غزہ میں حماس کی انتخابی جیت کے بعد کیا؟

امریکہ کی نظر میں حماس اور حزب اللہ دونوں دہشتگرد تنظیمیں ہیں جن کے ساتھ امریکہ کا کوئی لین دین نہیں۔ اگر امریکہ حزب اللہ کی وجہ سے لبنان کا سفارتی اور معاشی بائیکاٹ کرتا ہے تو خطے کی واحد عرب جمہوریت کا کیا بنے گا؟

دوسری طرف، ایران اور شام جیسے ملک ہیں جن کا لبنان کے اندرونی معاملات میں روایتی طور پر اثر و رسوخ رہا ہے۔ ایران اور شام کی خواہش ہے کہ لبنان میں اُن سے قربتیں رکھنے والی قوتیں فروغ پائیں اور لبنان کی باگ ڈور اُن کے ہاتھ آ جائے۔

شام خصوصاً نہیں چاہتا کہ اُس پر لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا مسلسل الزام لگانے والے سعد حریری اور اُن کے اتحادی ان انتخابات میں مضبوط بن کر اُبھریں۔ سعد حریری کے والد لبنان کے سابق وزیرِ اعظم رفیق حریری کے قتل کا الزام شام پر ہے اور اقوامِ متحدہ کا ایک اعلیٰ سطحی عالمی کمیشن اس قتل کی تحقیقات کر رہا ہے۔

لبنان کے پارلیمانی نظام میں مذہبی فرقوں کی بنیاد پر نشستیں اور اہم حکومتی عہدے تقسیم کیے گئے ہیں تاکہ سالہا سال سے خانہ جنگی سے متاثر اس کثیرالمذہبی ملک کی سیاست میں تمام اہم فرقوں اور برادریوں کی حصے داری ہو۔

یہی وجہ ہے کہ طے شدہ کوٹہ سسٹم کے تحت پارلیمان میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی نشستیں برابر ہیں۔ ملک کا صدر میرونائیٹ عیسائی ہوتا ہے، وزیرِاعظم سُنی جبکہ پارلیمان کا اسپیکر شیعہ رُکنِ پارلیمان منتخب کیا جاتا ہے۔ کابینہ کی اہم وِزارتیں بھی ایک طے شدہ فارمولے کے تحت اہم فرقوں یا گروپوں کے نمائندوں کے درمیان تقسیم کی جاتی ہیں۔

لبنان کے اس مخصوص کثیرالمذہبی اور کثیرالثقافتی تناظر میں تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ زیادہ تر سیٹوں کے نتائج تقریباً طے ہیں۔ بیروت میں قائم کارنیگی اِنڈائومنٹ سے وابستہ محقق پال سالم کا کہنا ہے کہ اس بار ہار جیت کا فیصلہ اگر ہوگا تو وہ اُن چند نشستوں پر ہوگا جہاں غیرجانبدار عیسائی ووٹر فیصلہ کن کردار ادا کر رہے ہیں۔

تجزیہ نگار پال سالم کے نزدیک قوی امکان ہے کہ الیکشن میں کسی بھی انتحابی اتحاد کو واضع اکثریت نہ ملے اور آخر میں جوڑ توڑ اور بیرونی دباؤ کے نتیجے میں مخلوط حکومت یا پھر قومی حکومت تشکیل دینی پڑ جائے۔ ایک منقسم مینڈیٹ کی صورت میں اگر روایتی حریف مل کر حکومت بنانے پر اتفاق نہیں کرتے تو لبنان پھر سیاسی بحران اور خانہ جنگی کی طرف جا سکتا ہے۔