چین:امریکی میئر پر ’قرنطینہ‘ کی پابندی

میئر
،تصویر کا کیپشنگزشتہ روز آٹھ مزید مریضوں کی نشاندہی کے بعد چین میں سوائن فلو سے متاثر افراد کی تعداد اسی ہوگئی ہے
وقت اشاعت

امریکی ریاست نیو اورلینز کے میئر رے نےگِن کو جو چین کے دورے پر گئے تھے، شہنگھائی کے ایک ہوٹل میں ’قرنطینہ‘ کے لیے روک دیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کہ جس فلائٹ سے میئر چین پہنچے ہیں اس فلائٹ میں ایک مسافر بیمار پڑ گئے ہیں اور خدشہ ہے کہ کہیں انہیں سوائن فلو نہ ہو۔

مسٹر نےگِن کے دفتر کی طرف سے تصدیق کی گئی ہے کہ نیو اولینز کے میئر، ان کی اہلیہ سیلیتھا اور ایک سکیورٹی گارڈ پر قرنطینہ کی پابندی لگا دی گئی ہے۔

میئر اور ان کا خاندان چین اور آسٹریلیا کے دس دن کے دورے پرگئے تھے جس کا مقصد کاروبار کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ سوائن فلو چونسٹھ ممالک میں پایا جاتا ہے تاہم اس کا شدید تر اثر شمالی امریکہ میں دیکھا گیا ہے۔

نیو اورلینز میں حکام نے امریکی میڈیا کو بتایا ہے کہ میئر کو صرف حفظِ ماتقدم کے تحت ہوٹل میں روکا گیا ہے اور ان میں سوائن فلو کی کوئی علامت نہیں ہے۔

انہیں جہاز میں اس جگہ نشست ملی جہاں ایک شخص کو انفلوئنزہ جیسی شکایات تھیں۔

فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ میئر کب تک ’قرنطینہ‘ کی پابندی کے زیرِ اثر رہیں گے۔

اتوار کو چین میں ایچ ون این ون وائرس میں مبتلا آٹھ نئے مریضوں کی نشاندہی ہوئی ہے جس سے چین میں سوائن فلو میں متاثر افراد کی تعداد اسی ہو گئی ہے۔تاہم چین میں سوائن فلو سے کو موت نہیں ہوئی۔