طلباء سے کوئی رابطہ نہیں: رشتہ دار

برطانیہ میں گزشتہ دنوں گرفتار کیے جانے والے نو میں سے چار پاکستانی طلبہ کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ ان کا طلبا سے تاحال کوئی رابطہ نہیں ہو پایا ہے اور طلبہ کے رشتے داروں کی اذیت اور کرب میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ان پاکستانی طلبہ کے والدین اور رشتہ داروں نے جن میں نصراللہ خٹک اور اعجاز برکی شامل تھے آج یہاں ایک مشترکہ اخباری کانفرنس میں حکومت پاکستان اور برطانیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان طلبہ کو جلد اّ جلد رہا کر دیں تاکہ وہ اپنی معمول کی زندگی اور تعلیمی سرگرمیاں بحال کرسکیں۔
ان لوگوں کا کہنا تھا کہ انہیں اطلاع ہے کہ آئندہ چند روز میں شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم طارق رحمان کو برطانوی حکام واپس پاکستان بھیج رہے ہیں۔
باقی طلبہ کے بارے میں ان کے وکیل مسٹر نیکلسن کا کہنا تھا کہ انہیں حیرت ہے کہ ان افراد کو بطور کیٹگری اے ملزم کے حراست میں رکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ جیل ان انتہائی خطرناک مجرموں کے لیے ہے جنہیں عدالتوں سے سزا ہوچکی ہو۔
’اس جیل میں قیدیوں سے ملنے کا نظام بہت لمبا اور اشتعال انگیز ہے جہاں غیرانسانی سلوک معمول کی بات ہے‘۔
اعجاز برکی کا موقف تھا کہ ابتداء میں حکومت پاکستان خصوصا لندن میں پاکستانی سفیر نے کافی کوششیں کیں لیکن اب ان کی توجہ اس موضوع سے بظاہر ہٹ گئی ہے۔ ’جب سوات آپریشن کا آغاز ہوا ہے، ہمارے مسئلے کو نہ میڈیا میں اور نہ حکومتی سطح پر توجہ دی جا رہی ہے‘۔
ایک طالب علم محمد شعیب کے بھائی کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت اپنی خفت کو چھپانے کی خاطر اب انہیں رہا نہیں کر رہی ہے۔ ’برطانوی حکومت نے غلط قدم اٹھایا اور اس کے بعد مزید اٹھاتے گئے تو اب انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ اس معاملے کو خاموشی سے کیسے رفع دفع کر دیں‘۔
یاد رہے کہ ان ایک درجن طلبہ کو جن میں سے دس پاکستانی تھے اس سال آٹھ اپریل کو مانچسٹر پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپوں میں حراست میں لیا تھا۔


















