گورڈن براؤن اپنے عہدے پر برقرار

برطانیہ کے وزیر اعظم گورڈن براؤن انتخابی ناکامیوں اور ان کے کئی وزارء کی طرف سے استعفے دیئے جانے کے بعد پیدا ہونے والے شدید سیاسی بحران میں اب تک اپنے عہدے پر برقرار رہنے میں کامیاب رہے ہیں۔
گزشتہ رات اپنی جماعت کے ارکان کے ایک پرہجوم اجلاس میں کئی اراکین نے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔
بی بی سی کے سیاسی نامہ نگار کے مطابق کئی ارکان نے گورڈن براؤن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکمران لیبر جماعت کو انتخابی تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔
گورڈن براؤن نے اپنی کمزوریاوں کا اعتراف کرتے ہوئے اور ارکان کی آراء پر زیادہ توجہ دینے کا یقین دلا کر اپنی جماعت کے اکثریتی ارکان کی حمایت حاصل کر لی۔
لیبر پارٹی کی حالیہ یورپی پارلیمان کے انتخابات میں نہایت مایوس کن کارکردگی رہی اور یہ ووٹوں کے اعتبار سے انڈیپینڈنس پارٹی سے بھی نیچے تیسرے نمبر رہی۔
سابق وزیر سٹیفن بائرز بھی لیبر پارٹی کے ان ارکان میں شامل ہوئے گئے جو گورڈن براؤن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ماحولیات کی وزیر جین کینیڈی بھی ان وزراء میں شامل ہوگئی ہیں جو کابینہ سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مستعفی ہونے کے بعد کہا کہ وہ گورڈن براؤن کا اور زیادہ حمایت نہیں کر سکتیں۔
گزشہ رات لیبر پارٹی کے ارکان کا ایک اہم اجلاس ہوا جسے مبصرین گورڈن براؤن اپنی حکومت کو قائم رکھنے کی کوششوں کا حصہ قرار دے رہے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے سیاسی امور کے نامہ نگار جیمز لینڈیل نے بتایا کہ اس اجلاس میں لیبر پارٹی کے ارکان نےڈسک بجا کر گورڈن براؤن کی حمایت کی۔
وزیر دفاع باب اینز ورتھ نے کہا کہ باغیوں ارکان کو اس اجلاس میں کوئی حمایت حاصل نہیں ہو سکی اور ارکان کی اکثریت نے گورڈن براؤن کو حمایت کا یقین دلایا۔






















