ملین ڈالر کا گدا

اب ایک ملین ڈالر کہیں کئی ٹن کچرے کے نیچے دبے ہیں
،تصویر کا کیپشناب ایک ملین ڈالر کہیں کئی ٹن کچرے کے نیچے دبے ہیں
وقت اشاعت

گدے میں ایک ملین ڈالر چھپا کر رکھنے والی اسرائیلی عورت آخر اپنی رقم سے محروم ہو گئی۔

تل ابیب کی یہ خواتین اب سارے شہر میں کچرے کے ڈھیروں کو چھانتی پھر رہی ہے کہ شاید اسے وہ گدہ مل جائے جو اس نے غلطی سے پھینک تھا اور جس میں اس نے ایک ملین یا دس لاکھ ڈالر چھپا کر رکھے ہوئے تھے۔

ایک اسرائیلی اخبار کے مطابق ایک خاتون جن کا نام صرف انات بتایا گیا ہے اپنی والدہ کے لیے بن بتائے نیا گدا خرید کر لائیں اور انہیں اچانک خوشی دینے کے لیے جب وہ گھر میں نہیں تھیں تو ان کے زیر استعمال پرانا گدا باہر پھینک کر اس کی جگہ نیا گدہ بچھا دیا۔

لیکن جب ان کی والدہ گھر آئیں اور انہوں نے پرانے گدے کی جگہ نیا گدا دیکھا اور بیٹی سے پرانے گدے کے بارے میں پوچھا تو یہ سن کر ہی بے ہوش ہو گئیں کہ ان کی بیٹی نے پرانا گدا باہر لے جا کر پھینک دیا تھا۔

اخبار کا کہنا ہے کہ اس کے بعد دونوں نے شہر میں کچرا پھینکے جانے کے لیے مخصوص تین بڑے مقامات پر جا کر گدے کو ڈھونڈنے کی پوری کوشش کر ڈالی لیکن انہیں اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

اخبار کا کہنا ہے کہ شہر سے روزانہ تین ہزار ٹن کچرا جمع کیا جاتا ہے جسے تین مقامات پر ڈالا جاتا ہے۔

ان تین مقامات میں سے ایک مقام کی انتظامیہ کے ڈائریکٹر یٹزک بوربا نے اسرائیل کے فوجی ریڈیو کو بتایا کہ جب دونوں خواتین ان کے پاس آئیں تو بری طرح حواس باختہ تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کے بعد عملے کے کچھ لوگوں کو رات کی اضافی ڈیوٹی کے لیے روک لیا تا کہ وہ خاتون کی مدد کریں۔

انات کا رویہ اس سلسلے میں قدرے فلسفیانہ ہے۔ ان کا کہنا ہے ’لوگوں کو ہر چیز تناسب سے لینی چاہیے اور جو بھی اچھائی یا برائی آئے اس کے لیے خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے‘۔