سوائن فلو کو عالمی وبا قرار دے دیا گیا

عالمی ادارۂ صحت نے سوائن فلو کو عالمی وبا کا درجہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے اس کے خطرے کا درجہ چھ تک بڑھا دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سوائن فلو کا وائرس دنیا کے کم از کم دو خطوں میں انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہو رہا ہے۔ آسٹریلیا، جاپان، چلی اور برطانیہ میں سوائن فلو کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے گزشتہ تقریباً چالیس سالوں میں پہلی مرتبہ فلو کو وبا کا درجہ دیا ہے۔
یہ اعلان عالمی ادارۂ صحت کی ڈائریکٹر جنرل مارگریٹ چین نے جمعرات کی صبح اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں کے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد کیا۔ یہ اجلاس جینیوا میں ہوا جس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ کیا سوائن فلو کو عالمی سطح پر وبا قرار دے دیا جائے یا نہیں۔
جینیوا میں بی بی سی کی نامہ نگار اموجن فالکس کے مطابق سوائن فلو اب تقریباً 74 ممالک میں پھیل چکا ہے۔ اگرچہ سوائن فلو سے تیس ہزار کے قریب افراد متاثر ہوئے ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر جلد صحتیاب ہو جاتے ہیں۔ نوے فیصد مریضوں کو تو ہسپتال ہی نہیں جانا پڑتا۔ اس لیے عالمی ادارۂ صحت نے نہ تو سرحدیں بند کرنے کی بات کی ہے اور نہ ہی سفر پر کسی قسم کی کوئی پابندی کا مشورہ دیا ہے۔
تاہم عالمی ادارہ حکومتوں سے توقع کر رہا ہے کہ وہ اس بات پر مزید غور کریں کہ کس طرح ان کے ممالک میں سوائن فلو پھیل رہا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ پر کڑی نظر رکھنی چاہیئے اور ترقی پذیر ممالک جن کو اس سے زیادہ خطرہ ہے، انہیں بین الاقوامی برادری کی مدد کی ضرورت پڑے گی۔

سنہ انیس سو اڑسٹھ میں ہانگ کانگ میں فلو کے وائرس کے نتیجے میں انفلوئنزا کو عالمی وبا قرار دیا گیا تھا جس سے تقریباً دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
عالمی ادارۂ صحت نے آسٹریلیا میں سوائن فلو کے مریضوں میں یکدم اضافے کے پیشِ نظر جمعرات کا اجلاس طلب کیا تھا۔اب تک آسٹریلیا میں بارہ سو کے قریب افراد سوائن فلو میں مبتلا ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہانگ کانگ میں بھی بارہ طلبا میں سوائن فلو کی تصدیق کے بعد نرسری اور پرائمری سکول جمعہ سے دو ہفتے تک بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
کسی مرض کو وبا اس وقت قرار دیا جاتا ہے جب دنیا کے دو خطوں میں اس مرض کی انسانوں سے انسانوں میں منتقلی وسیع پیمانے پر شروع ہو جائے۔
اگرچہ سوائن فلو کے اکثر مریض صحتیاب ہو رہے ہیں تاہم عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں اس وائرس سے 141 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
صحت کے امور کے لیے بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سوائن فلو کے وائرس کو وبا کا درجہ دیئے جانے کا یہ مطلب نہیں کہ اچانک یہ وائرس زیادہ مہلک ہو گیا ہے۔ البتہ اس میں صحت کے معاملات سے وابستہ حکام کے لیے یہ اشارہ ضرور ہے کہ اب یہ امکان واضح طور پر موجود ہے کہ اس مرض میں زیادہ لوگ مبتلا ہو سکتے ہیں۔
سوائن فلو کا وائرس اپریل میں میکسیکو میں ظاہر ہوا تھا۔






















