یمن میں نو غیر ملکی اغواء

یمنی حکام کے مطابق ملک کے شمالی پہاڑی علاقے سے شیعہ باغیوں نے نو غیر ملکی جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، کو اغواء کر لیا ہے۔
خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یمنی حکومت نے ایک شیعہ باغی گروپ ہوتھی زیدی کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹہرایا ہے جو کہ گزشتہ پانچ سالوں سے حکومت کے خلاف لڑ رہی ہے۔
تاہم باغی گروپ کے ترجمان نے اس الزام کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ’حکومت ہوتھی گروپ کو بدنام کرنے کے لیے اس واقعے میں ملوث کر رہی ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ہوتھی کے کارکن اس قسم کے شرمناک فعل کے مرتکب ہوئے ہوں۔‘
یمن کی وزارت داخلہ کے مطابق سیاحوں کے اس گروپ میں جس میں سات جرمن اور ایک ایک برطانوی اور کوریائی باشندے شامل ہیں جمعے کے دن سادا میں تفریح کے لیےگئے تھے۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ مغوی اس علاقے میں ایک ہسپتال میں کام کرنے والے بین الاقوامی گروپ کا حصہ تھے۔
جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ ان کی ایک خاتون شہری یمن میں لاپتہ ہیں۔ اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کوریائی حکام نے کہا کہ ’ہمیں ابھی اس بات کا تعین کرنا ہے کہ آیا انہیں اغواء کیا گیا ہے یا نہیں۔ ہم نے یمنی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کے گروپ کا پتہ چلائے۔‘
جرمنی کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ثناء میں ان کا سفارت خانہ یمنی حکام سے ’قریبی رابطے‘ میں ہے۔ جبکہ برطانوی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اغواء کے اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گزشتہ پندرہ سالوں میں یمن میں تقریباً دو سو غیر ملکیوں کو اغواء کیا گیا جن میں سے زیادہ تر کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر رہا کر دیا گیا۔






















