تمل ٹائگروں کی مدد کرنے والے تمل کو سزا

انہیں دہشتگردی کے لیے الیکٹرونک سازو سامان اور دستاویزات موصل ہونے کے الزام میں قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنانہیں دہشتگردی کے لیے الیکٹرونک سازو سامان اور دستاویزات موصل ہونے کے الزام میں قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔
وقت اشاعت

برطانیہ کی تمل اسوسیئشن کے بانی کو شدت پسند گروپ تمل ٹائگرز کی مدد کرنے کے الزام میں دو برس کی قید کی سزا دی گئی ہے۔

52 سالہ ارونا چلم کریشنتھاکمار کو لندن کے اؤلڈ بیلی عدالت میں سزا دی گئی ہے۔ ان پر سری لنکا میں تمل باغیوں کے لیے غیر قانونی طور پر سازو سامان جمع کرنے کا الزام تھا۔

انہیں دہشتگردی کے لیے الیکٹرونک سازو سامان اور دستاویزات موصل ہونے کے الزام میں قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔

کریشنتھاکمار کے ساتھ تین اور ملزمان کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔

سماعت کے دوران سرکاری وکیل جوناتھن لیڈ لاء کا کہنا تھا کہ کریشنتھاکمار کی جانب سے ان سازوسامان کو جمع کرنے مقصد سیدھے طور پر دہشتگردوں کی مدد کرنا تھا۔"

وہیں جج سوندرز نے کہا کہ قانون توڑنے کی غرض سے اٹھایا گیا یہ قدم جان بوبھ کر اٹھایا گیا قدم تھا، یہ کافی سنجیدہ جرم ہے جس کی مناسب سزا دی جانی چاہیے۔"

جج نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک انوکھا کیس ہے کیونکہ جس وقت یہ جرم کیا جا رہا تھا اس وقت سری لنکا میں تمل ٹائگرز پر پابندی عائد نہيں تھی اور سری لنکا کی حکومت اور تمل ٹائگرز کے درمیان امن مذاکرات جاری تھے۔

جج نے عدالت سے یہ بھی کہا " اصل میں یہ شخص کافی شریف ہے اور اس نے جان بوجھ کر ایسی مہم کے لیے قانون توڑا ہے جس میں اسے ہیمشہ سے یقین تھا۔