یمن میں مغویوں کی لاشیں برآمد

یمن
،تصویر کا کیپشنگزشتہ پندرہ سالوں میں یمن میں تقریباً دو سو غیر ملکیوں کو اغواء کیا گیا ہے
وقت اشاعت

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ کم از کم تین غیر ملکی خواتین کی لاشیں ملی ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس گروپ میں شامل تھیں جسے یمن میں اغوا کر لیا گیا تھا۔

نو افراد پر مشتمل اس گروپ کو یمن کے شمالی پہاڑی علاقے سے اغوا کیا گیا تھا۔ گروپ میں تین بچے بھی شامل ہیں۔ جب کہ گروپ کے سات افراد جرمن، ایک برطانوی اور ایک کوریائی شہری ہے۔

ان میں برطانوی شہری ایک انجینئر ہے۔ جب کے کوریائی خاتون پیشے کے اعتبار سے استاد ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے والے ایک سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے یہ غیر مصدقہ خبر دی گئی ہے کہ غیر ملکیوں کی اور لاشیں بھی ملی ہیں۔

اس سے قبل یمن کے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ ملک کے شمال مغربی صوبہ سادا میں پکنک کے لیے جانے والے ایک گروپ کو جمعہ کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس گروپ میں ایک جرمن ڈاکٹر، ان کی اہلیہ اور تین بچے شامل ہیں۔

یمن کے سرکاری خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اغوا ہونے والے بالغ افراد صوبے ایک ہسپتال میں کام کرتے تھے۔

برطانیہ اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ملنے والی اطلاعات اور ہلاکتوں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

یمنی حکومت نے ایک مقامی شیعہ گروپ، ہوثل زیدی پر اغوا کا الزام لگایا ہے۔ یہ گروپ گزشتہ پانچ سال سے حکومت کے خلاف صف آرا ہے لیکن خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس نے اس اغوا میں کسی طرح کے تعلق سے تردید کی ہے۔

گزشتہ پندرہ سال کے دوران دو سو غیر ملکی افراد کو اغوا کیا گیا ہے لیکن ان میں زیادہ تر کو کسی نقصان کے بغیر رہا کر دیا گیا۔