ایران: سماجی طبقوں کی جنگ؟

- مصنف, ثقلین امام
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
- وقت اشاعت
ایران کے شہروں میں بارہ جون کے انتخابات کے نتائج کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں عوامی شرکت اگرچہ اس بات کا تو ثبوت ہے کہ وہاں تبدیلی کے خواہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، تاہم اگر چند بنیادی حقائق کو متواتر ذہن میں نہ رکھا جائے تو نشریاتی اداروں میں گردش کرنے والی خبریں بلا شبہ گمراہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔
انتخابی نتائج کو’تقلب‘ یعنی دھاندلی کہنے والے لوگ شہروں کے امیر یا متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔تہران میں یہ طبقے شہر کے شمال اور مرکزی علاقوں میں رہتے ہیں جبکہ جنوبی تہران میں کم آمدنی یا لوئر مڈل کلاس کی آبادیاں ملیں گی۔ تقریباً یہی تقسیم چھوٹے شہروں اور قصبوں میں دکھائی دیتی ہے۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ایران کے امیر طبقے جنھیں مقامی اصطلاح میں’ ثروت مند‘ کہا جاتا ہے، دنیا بھر کے دوسرے معاشروں کی طرح صرف اپنی سہولت کے بارے میں فکر مند ہوتے ہیں۔ اگر آپ نے محسن حامد کا ناول ’دا ری لکٹنٹ فنڈامینٹلِسٹ‘ پڑھا ہو تو اس میں جس پاکستانی ائیر کنڈیشنڈ کلاس کا ذکر کیا گیا ہے وہی تہران کے شمالی علاقوں کا طبقہ ہے۔
ایران میں بادشاہت کے زمانے سے لے کر اور اب بھی، یعنی اسلامی انقلاب کے بعد کے دور میں، ان کی غرض صرف یہ رہتی ہے کہ ان کے کاروبار اور نفع کے رستے میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔ انقلاب کے دوران اور بعد میں جب اس طبقے نے دیکھا کہ ہوا کے ساتھ ہونے میں فائدہ ہے تو ان لوگوں نے اسلامی شعار اپنا لیے، مثلاً حجاب اوڑھ لیا یا داڑھی رکھ لی۔

اس طرح سے یہ طبقہ اسلامی انقلاب کے تیس برسوں میں ایرانی سیاست میں کسی نہ کسی طرح فعال رہا ہے۔ دوسرے ملکوں میں، خاص کر مغربی معاشروں میں، یہ سرمایہ دار طبقہ، عام طور پر عملی سیاست سے دور رہتا ہے۔ یہ طبقہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بیک وقت بظاہر متضاد سیاسی گروہوں کواستعمال کرتا رہتا ہے۔ لیکن ایرانی معاشرے میں اس قسم کے طبقے کے افراد کا عملی سیاست میں شرکت کرتے رہنا ذرا منفرد ہے۔
شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اسلامی انقلاب کے تیس برس ایرانی معاشرے سے وہ طبقاتی اثرات مکمل طور پر ختم نہیں کرسکے جو ایران کے بادشاہی نظام نے کئی صدیوں میں مرتب کیے تھے۔ اس کے نتیجے میں لیڈری صرف ایلیٹسٹ لوگوں کےلیے مخصوص سمجھی جاتی رہی ہے۔ ایسے کئی تاریخی شواہد موجود ہیں کہ ایران کی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت سے لے کر دیگر سیاسی جماعتوں کی قیادتیں اسی طبقے نے پیدا کی ہیں۔
انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب کے بعد ایران کے پسماندہ طبقوں کو پہلی مرتبہ قائدانہ کردار ادا کرنے کا موقع ملا مگر شروع شروع میں اسلامی انقلاب کے اندر بھی اس کے خلاف ثروت مند طبقے نے مزاحمت کی۔ مثلاً جب ابوالحسن بنی صدر ایران کے پہلے صدر منتخب ہوئے تو انھوں نے اس وقت کے ایک غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے سکول ٹیچر، محمد علی رجائی، کو اپنی حکومت کے وزیر اعظم کے طور پر قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔
اس طرح انقلاب کے بعد بھی روایتی سرمایہ دار اور ان کے پروردہ طبقے کی فضیلت برقرار رہی۔ دوسرے لفظوں میں ایرانی معاشرہ اپنے اندر موجود برہمن طبقے کی برہمنیت ختم نہ کرسکا۔ لیکن بعد کے حالات کی پیش رفت نے آہستہ آہستہ اس طبقے کو کمزور کرنا شروع کردیا خاص کر جب ایرانی حکومت نے غریب طبقوں کی ترقی کے لیے بڑی بڑی رقمیں مختص کرنا شروع کردیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

جب اسلامی جمہوریہ ایران کے پہلے صدر ملک سے بھاگ گئے تو محمد علی رجائی صدر منتخب ہوئے۔ مگر انتخاب کے دو ہنتوں کے بعد ہی وہ اپنے وزیراعظم، جواد باہنر، کے ہمراہ اگست انیس سو اکیاسی میں ایک بم دھماکے میں قتل کردیے گئے۔ اس طرح امام خمینی کی زندگی میں ہی پسماندہ طبقے کے لوگوں کو اعلیٰ قیادت حاصل کرنے کا جو موقع ملا تھا وہ اس دھماکے کے ساتھ ہی پھر سے خواب بن گیا۔
رجائی کے بعد آنے والے تین صدور جنھوں نے مجموعی طور پر چوبیس برس تک حکومت کی ان سب کا تعلق براہ راست یا بالواسطہ ایران کے روایتی اعلیٰ طبقہ سے تھا۔ تا وقتیکہ ایرانی عوام نے اگست دو ہزار پانچ میں متومل طبقے کے ایک اہم ترین رکن، ہاشمی رفسنجانی، پر ترجیح دیتے ہوئے ایک غریب کاریگر کے بیٹے محمود احمدی نژاد کو اپنا چھٹا صدر منتخب کرلیا۔
تاہم اس دوران ایرانی معاشرے کے سرمایہ داروں اور ان کے پروردہ طبقوں کے مفادات کی حفاظت ایلیٹسٹ صدور کے ہونے کی وجہ سے خود بخود ہوتی رہی۔ اور اس طرح یہ طبقے اگرچہ خود تو سیاست میں صف اول کا کردار ادا کرتے نظر نہ آئے مگر انھیں ہر صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے موقع پر اپنے ڈالے ہوئے ووٹوں کی بدولت اپنے مفادات کی حفاظت ہوتی نظر آتی رہی۔
خاص کر ہاشمی رفسنجانی کے آٹھ برسوں کے دور صدارت جتنی بھی اقتصادی ترقی ہوئی اس کا فائدہ سرمایہ داروں کے چند مخصوص گروہوں کو پہنچا۔ اس طرح ایران کی دولت چند لوگوں میں مرتکز ہوتی رہی۔ ان چند گروہوں میں کچھ علما بھی ہیں جن کی نمائندگی رفسنجانی کرتے ہیں۔
اپنی دو مدتی صدارت کے اختتمام پر جب وہ انتخاب نہ لڑ سکے تو ہاشمی رفسنجانی نے اپنی ہی طرح کہ ایک امیر عالم، ناطق نوری کو صدارتی امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا۔ مگر عوام نے ناطق نوری کے برعکس اس وقت کے ایک صاف ستھرے اور قدرے غیر معروف امیدوار، سید محمد خاتمی کو منتخب کیا۔
خاتمی تھے تو صاف صدر مگر ان کا تعلق بھی روایتی طور پر اعلیٰ طبقے سے ہے۔ ان کے دور میں سیاسی اصلاحات کے لیے پیش رفت تو ہوئی مگر اقتصادی طور پر عدم مساوات کو دور کرنے کے لیے کوئی قابل ذکر کام نہ ہوا۔ امیر طبقے امیر ہوتے رہے اور غریبوں کیلئیے نسبتاً حالات تنگ ہی رہے۔
تاہم جب احمدی نژاد صدر بنے تو انھوں نے تیل کی برآمد سے حاصل ہونے والی دولت کو عوام میں برابری سے تقسیم کرنے کا نعرہ دیا اور صدر بننے کے بعد اس پر عمل درآمد شروع کردیا۔ ایران کے پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھنے والے اس صدر نے اپنے طبقے کی مقبول اقدار جنھیں ایران کے مذہبی لوگ اسلامی اقدار کہتے ہیں، انھیں پورے تہران کے معاشرہ پر لاگو کرنے کی کوشش کی۔
اس طرح انقلاب کے بعد پھر سے تہران کے سرمایہ دار اور اس کے پروردہ طبقے نے اپنے آپ کو سیاسی طاقت سے محروم سمجھنا شروع کردیا۔ ایسا لگنے لگا ہے کہ ان کے لیے صدر خواہ کوئی بھی ہو مگر ایک پسماندہ طبقے کا فرد صدر نہیں ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر بارہ جون سے قبل انتخابی مہم کے دوران احمدی نژاد کے خلاف جو نعرے لگے ان میں ایک مقبول نعرہ یہ تھا ’یک ہفتہ، دو ہفتہ، محمود حمام نہ رفتہ‘ یعنی ایک ہفتہ یا دو ہفتہ سے محمود حمام نہیں گیا ہے۔

اس طرح کے اور بھی کئی نعرے لگائے گئے جو محمود احمدی نژاد کے پسماندہ طبقے سے تعلق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان سے تہران کے ثروت مند طبقے کی بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔ میر حسین موسوی جو اپنی ذات میں ایک شریف شخص ہیں، بہرحال روایتی طور پر شمالی تہران کے ثروت مند طبقے کے رکن ہیں۔ موسوی کے حامیوں میں تمام کی تمام بڑی شخصیات ثروت مند طبقے سے ہی تعلق رکھتی ہیں۔
ان لوگوں کی امید بندھی کہ بارہ جون کے انتخابات میں موسوی کی فتح سے وہ اپنی کھوئی ہوئی سیاسی قوت دوبارہ سے حاصل کرلیں گے۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ اب جب کہ قدرے پسماندہ طبقات اور دیہاتی ایران نے محمود احمدی نژاد کو دوبارہ چار برسوں کے لیے صدر منتخب کرلیا ہے تو اس ایلیٹسٹ سیاسی قیادت کے لیے یہ کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے۔
اس طبقے کی سیاسی محرومی صرف احمدی نژاد کے صدر منتخب ہونے کی وجہ سے ہی نہیں ہے بلکہ ایران کے پارلیمانی انتخابی نظام کا ایک خاص انداز بھی ہے۔ ایران میں پارلیمانی انتخاب جغرافیائی حلقوں کی صورت میں نہیں ہوتے ہیں بلکہ یہ متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ سے تہران کے متمول علاقے کے لوگ اس بڑے شہر کے تقریباً بیس اراکین پارلیمان میں سے کسی ایک کو بھی اپنے مفادات کا نمائندہ محسوں نہیں کرتے ہیں۔
صدارتی انتخاب میں ہی اب تک وہ کسی نہ کسی کو اپنے طبقے کا نمائندہ سمجھتے رہے ہیں۔ لیکن احمدی نژاد کے بعد سے وہ اپنے آپ کو ایران کے سیاسی نظام میں سے خارج سمجھتے ہیں۔ اور جب یہ طبقہ اپنی پوری طاقت کے باوجود ایک باہر کے شخص کو شکست نہ دے سکا تو یہ اپنے ہی بنائے گئے اصول و ضوابط کو توڑ کر حکمرانی اپنے طبقے میں لانے کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہے۔






















