برطانوی پارلیمان،اخراجات تنازعہ

برطانیہ میں پارلیمنٹ اراکان کے پچھلے چار سال کے اخراجات کی تفصیلات کو عام کر دیا گیا ہے۔تاہم ان میں سے کچھ تفصیلات کو بلیک آؤٹ کر دیا گیا۔
برطانیہ کی دارلعوام کے حکام نے آزادیِ اظہار کی طویل لڑائی کے بعد یہ اطلاعات عام کیں۔ان تفصیلات میں سے سکیورٹی کے پیشِ نظر ممبران ِ پارلیمان کے پتے ہٹا دیے گئے۔
اس کا مطلب ہے کہ یہ معلوم نہیں کیا جا سکتا کہ آیا کسی ممبر پارلیمنٹ نے دوسرا گھر تبدیل کیا ہے یا نہیں جو کہ روز نامہ ’ڈیلی ٹیلی گراف‘ کے منظرِ عام پر آنے والے اعدادو شمار کا اہم حصہ تھا۔
روز نامے کے اسسٹنٹ ایڈیٹر اینڈریو پیئرس نے بی بی سی کو بتایا کہ کابینہ کی جانب سے جو مراعات لی گئی ہیں ان کی مکمل فہرست جمعہ کو جاری کی جائے گی اور ہر ممبر پارلیمنٹ کے اخراجات کی فہرست سنیچر کو شائع کی جائے گی۔تاکہ لوگ خود یہ اندازہ لگا سکیں کہ اس معاملے میں کیا سینسر کیا گیا ہے۔
بدھ کو وزیرِ خزانہ کٹِی اوشر نے ان خبروں کے درمیان استعفی دے دیا کہ انہوں نے کیپٹل گین ٹیکس بچانے کے لیے اپنے گھر کی حیثیت تبدیل کی تھی۔کٹِی اوشر کا کہنا ہے کہ انہوں نے قانون کے دائرے میں رہ کر کام کیا تھا لیکن وہ حکومت کو خفت سے بچانے کے لیے استعفی دے رہی ہیں۔
بی بی سی کے سیاسی مدیر نک رابنسن کا کہنا ہے کہ اگر ٹیلی گراف کو ممبرانِ پارلیمنٹ کے اخراجات کی غیر سینسر شدہ رپورٹ نہ ملی ہوتی تو کٹِی اوشر جیسے وزراء ابھی تک حکومت میں شامل رہتے۔


















