ایران:مظاہرین کی ہلاکت پرسوگ

ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے حریف حسین موسوی نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ جمعرات کو مسجدوں میں اکٹھے ہو کر فوج کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے آٹھ مظاہرین کا سوگ منائیں۔
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جمعرات کو مظاہرین کی تعداد پچھلے کئی روز سے جاری مظاہروں سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔پیر کے روز سے شروع ہونے والے مظاہروں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی ہے۔ بدھ کے روز ہونے والے مظاہرے میں کئی لاکھ لوگوں نے شرکت کی۔
صدر محمود احمدی نژاد کی کامیابی کے بعد ایران میں شدید احتجاج ہو رہا ہے۔ مظاہرین کو شکایت ہے کہ انتخابی عمل میں بڑی دھاندلی کے ذریعے ان کی رائے کو دبا دیاگیا ہے۔
اصلاحات کے حامیوں کے امیدوار میر حسین موسوی نے شوریٰ نگہبان کی طرف سے ان کی انتخابی عذرداری کے رد ہونے کے بعد نئے انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔
تہران میں بی بی سی کے جان لینی نے بتایا ہے کہ کئی روز سے جاری مظاہروں سے نمٹنے کے لیے حکومت کے پاس کوئی واضح حکمت عملی نہیں ہے۔ محمود احمدی نژاد نے دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے لیکن اپوزیشن کا الزام ہے کہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں ہوئی ہیں۔
میر حسین موسوی نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ جمعرات کو پرامن احتجاج کے دوران اپنی بازوں پر کالی پٹیاں باندھیں۔
ایران کی حکومت نے بی بی سی سمیت غیر ملکی ذرائع ابلاغ پر پابندیاں عائد کر رکھی ہے۔ ایران کی حکومت کا موقف ہے کہ مظاہرے ’غیر قانونی‘ ہیں اور ذرائع ابلاغ کو کسی غیر قانونی کارروائی کی رپورٹنگ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن ایران میں موجود غیر ملکی صحافی ہوٹل کےکمروں میں بیٹھ کر کیا لکھتے ہیں اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

بدھ کے روز بھی لاکھوں لوگوں نے تہران میں مظاہرے کیے۔ایک اندازے کے مطابق پانچ لاکھ افراد نے مظاہروں میں حصہ لیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر ایران کی وزارت خارجہ کئی ملکوں کے سفیروں کو طلب کر کے ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر احتجاج کیا ہے۔ ایرن نے سوئٹزرلینڈ کے سفیر کو طلب کر کے امریکی حکومت کی مبینہ مداخلت پر احتجاج کیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے سفیر ایران میں امریکہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ادھر ایران کی قومی فٹ بال کی ٹیم کے چھ کھلاڑیوں نے سیول میں جنوبی کوریا کے خلاف میچ کےدوران احتجاج کے طور پر سبز پٹیاں باندھ رکھی تھی ۔
ایران میں سکیورٹی ادارے مظاہرین کی پکڑ دھکڑ میں مصروف ہیں اور انہوں نے بدھ کے روز یونیورسٹی کے ہاسٹلوں پر چھاپوں اور اصلاحات کی حامی دو اہم شخصیات کو گرفتار کیا۔
اس دوران ایران کے اعلیٰ روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے کشیدگی اور تشدد ختم کرنے کے لیے کہا ہے۔






















