فضائی حملے میں غلطیاں ہوئیں:امریکہ

فرح میں ہلاکتیں
،تصویر کا کیپشنامریکی رپورٹ میں شہریوں کی ہلاکت کے امکان کو کم سے کم رکھنے کے لیے سفارشات کی گئی ہیں
وقت اشاعت

امریکی فوج نے کہا ہے کہ افغانستان کے صوبے فرح میں گزشتہ مہینے فضائی حملے میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کی وجہ فوجی ضوابط کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔

امریکی حکام نے فرح میں چار مئی کو طالبان پر ہونے والے سات حملوں کے بارے میں تحقیقات کے بعد کہا کہ ان میں سے تین میں عسکری رہنما اصولوں کی پابندی نہیں کی گئی۔

رپورٹ میں تسلیم کیا گیا کہ حملوں میں چھبیس شہری ہلاک ہوئے تھے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ افغانستان کی حکومت نے کہا ہے کہ ان حملوں میں ایک سو چالیس لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

امریکی اور افغانستان کی حکومتوں کے درمیان ان حملوں کے بعد سے ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد کے بارے میں اختلافات چل رہے تھے۔

امریکی رپورٹ میں فرح پر حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ طاقت کا استعمال دشمن سے لاحق خطرے سے نمٹنے کے لیے ضروری تھا۔ رپوٹ میں مزید لکھا ہے کہ لیکن شہریوں کا موجودگی کا پتہ نہ چلنا اور ان کو نقصان نہ پہنچنے دینا یا اسے کم سے کم رکھنے میں ناکامی نادانستہ نقصان کی وجوہات بن گئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ آخری تین حملوں میں جو رات کی تاریکی میں ہوئے واضح ہدایات سے انحراف کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ان حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد کے بارے میں کبھی بھی معلوم نہیں ہو سکے گا کیونکہ تحقیقات شروع ہونے سے قبل ہی بہت سے لوگوں کو دفنا دیا گیا تھا۔

امریکہ اور نیٹو دونوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی جنگ میں شہری ہلاکتوں سے سے بچنا ان کی ترجیحات میں شامل ہوتا ہے۔