ایتھوپیا کا فوجی مدد کرنے سے انکار

افریقی ملک ایتھوپیا نے صومالیہ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں پڑوسی ممالک سے اپیل کی گئی تھی کہ اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے فوجی مدد کی جائے۔
اتوار کے روز ایتھوپیا نے اپیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر قبولیت کے بعد ہی اس کی فوج صومالیہ میں داخل ہو سکتی ہے۔
ایتھوپیا کی فوج نے دو ہزار چھ میں اسلامی شدت پسند گروپ کے خلاف کارروائی میں صومالیہ کی مدد کی تھی لیکن اس کی فوج رواں سال کے آغاز میں صومالیہ سے نکل گئی تھی۔
صومالیہ کی حکومت شدت پسند اسلامی گروپ کے خلاف کارروائی کر رہی ہے جو ملک کے بیشتر حصے پر قابص ہیں۔سات مئی سے دارالحکومت موغادیشو میں شدت پسند اسلامی گروپ شہاب اور سرکاری فوجوں کے درمیان لڑائی جاری ہے جس میں بدھ کے روز سے شدت آئی ہے۔
صومالیہ کی پارلیمنٹ کے سپیکر شیخ عدن محمد نور نے اپنے پڑوسی ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ چوبیس گھنٹوں کے اندر صومالیہ میں فوجیں بھیجیں۔
صومالیہ کی شہاب نامی تنظیم کا تعلق القاعدہ سے بتایا جاتا ہے۔ شہاب صومالیہ کی ان کئی شدت پسند تنظیموں میں سے ایک ہے جو صومالیہ کی ایک کمزور حکومت کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صومالیہ میں چار ہزار سے زائد افریقن یونین کے فوجی تعینات ہیں لیکن وہ جنگجوؤں کا پیچھا کر کے انہیں گرفتار کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔


















