’سیکس کےلیے پیسوں کی تردید‘

اطالوی وزیراعظم سلویو برلسکونی نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ اپنی سرکاری رہائشگاہ پر ہونے والی دعوتوں میں شرکت کرنے والی جسم فروش خواتین کو معاوضے دیتے ہیں۔
اٹلی میں سماجی گپ شپ کے ایک جریدے ’چی‘ کو دیے جانے والے انٹرویو میں بہّتر سالہ رہنما نے کہا ہے کہ انہوں نے سیکس کے لیے کبھی کسی کو پیسے نہیں دیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس سکینڈل میں مرکزی کردار ادا کرنے والی عورت کو ان پر الزام تراشی کے لیے پیسے دیے گئے ہیں۔
جب سے گزشتہ ماہ برلسکونی کی اہلیہ نے ان سے طلاق کا مقدمہ دائر کیا ہے ان کی ذاتی زندگی کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات کو بھی ذرائع ابلاغ میں لایا جا رہا ہے۔
اس انٹرویو کے دوران برلسکونی نے پہلی بار اپنی داتی زندگی کے بارے اتنی تفصیلی گفتگو کی ہے۔
ایک اطالوی ماڈل پتریزا ڈی ایڈیریو نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ انہیں دوسری عورتوں کے ساتھ مسٹر برلسکونی کی روم میں واقع رہائشگاہ پر ہونے والی پارٹی میں شرکت کے لیے ایک ہزار یورو دیے گئے تھے۔
ڈی ایڈیریو کا کہنا تھا کہ انہیں وزیر اعظم کے ساتھ ’سونے‘ کے لیے کہا گیا تھا اور وہ اس رات وزیر اعظم کے ساتھ سوئیں بھی۔ لیکن برلسکونی نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ انہوں نے سیکس کے لیے کبھی کسی کو پیسے نہیں دیے۔
برلسکونی کا کہنا تھا کہ ’مجھے تو یہ بات ہی سمجھ نہیں آتی کہ اگر آپ پیسے دیں تو پھر ترغیب سے مفتوح کرنے کی لذت کیسے ملے گی‘۔ انہوں نے جواباً الزام لگایا کہ ڈی ایڈیریو کو ان کے خلاف الزام لگانے کے لیے ’بھاری رقم‘ ادا کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈی ایڈیریو نے برلسکونی کے اس الزام کر تردید کی ہے۔ ایک خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے ڈی ایڈیریو کا کہنا تھا کہ ’اگر مسٹر برلسکونی کے پاس اپنے دعوے کا ذرا بھر بھی کوئی ثبوت ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ یہ ثبوت قانون کا نافذ کرنے والے حکام کو فراہم کریں اور اگر ایسا نہیں ہے تو انہیں چاہیے کہ وہ اس طرح کے دعوے نہ کریں‘۔
اطالوی وزیر اعظم اس وقت سے شدید دباؤ میں ہیں جب سے ان کی اہلیہ نے یہ الزام لگاتے ہوئے طلاق کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ نوجوان لڑکیوں سے نامناسب تعلقات رکھتے ہیں۔ برلسکونی اور ورونیکا لاریو کی شادی انیس سال قبل ہوئی تھی۔
ورونیکا نے الزام لگایا ہے کہ برلسکونی ’کم عمروں سے ملاپ‘ کا رحجان رکھتے ہیں اور انہوں نے کچھ عرصہ قبل ایک ٹی وی اداکارہ اور ماڈل کی اٹھارہویں سالگرہ میں شرکت کی تھی۔
اس کے بعد مزید سکینڈل اس وقت بنے جب سارڈینا نامی جزیرے میں ان کے رہائشگاہ پر ایک عورت اور ایک مرد کی ایسی تصویریں منظرِ عام پر آئیں جن میں مرد بالکل برہنہ تھا جب کہ عورت کا بالائی حصہ بے لباس تھا۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ انہیں دوسروں کے نامناسب رویے کے لیے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے اور جہاں تک ان کا تعلق ہے ان کی زندگی میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس کے لیے وہ شرمندہ یا معذرت خواہ ہوں۔
اگرچہ مسٹر برلسکونی کی ذاتی زندگی کو اطالوی ذرائع ابلاغ میں بہت زیادہ توجہ مل رہی ہے لیکن عام لوگ اس پر ناراص نہیں ہیں اور نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ناراضگی کے برخلاف لوگوں کی بڑی تعداد برلسکونی کی طاقت، کشش اور ان کے ارد گرد خوبصورت عورتوں کی موجودگی کو سراہتے ہیں۔
حال ہی میں برلسکونی کی فریڈم پیپلز پارٹی نے یورپی انتخابات میں نسبتاً اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور کچھ ایسے شہروں میں بھی کامیابی حاصل کی جنہیں حزبِ اختلاف کا گڑھ تصور کیا جاتا تھا۔






















