امریکہ: ماحولیات سے متعلق بل منظور

براک اوباما
،تصویر کا کیپشنبل کی منظوری کو صدر اوباما نے ایک تاریخی قدم قرار دیا ہے
وقت اشاعت

امریکہ کے ایوان نمائندگان نے ماحول میں آنے والی تبدیلی پر قابو پانے کے لیے ایک بل منظور کیا ہے۔ اس بل کا مقصد ملک میں آلودگی کم کرنا ہے۔

اس بل کے ذریعے آلودگی کو روکنے کی کوشش کی جائے گی اور گلوبل وارمنگ سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

اس بل کے حق میں کل دو سو انیس ميں سے 212 اراکین نے ووٹ ڈالے ۔ اسے صدر اوباما نے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

لیکن ابھی اس بل کو امریکی سینیٹ کی جانب سے منظوری ملنا باقی ہے جس کے بعد ہی اسے قانون میں تبدیل کیا جا سکے گا۔

ووٹ ڈالے جانے کے بعد صدر اوباما نے کہا کہ ’ آج ایوان نمائندگان نے امریکہ کے کلین اینرجی اور سکیورٹی ایکٹ (امریکہ کے صاف توانائی اور سلامتی کے قانون) کے لیے ایک ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’یہ کافی اہم اور ضروری قدم ہے جس کے بعد ملک کو نئی صنعتیں اور لاکھوں نئی ملازمتوں کے مواقع ملنے کے ساتھ ساتھ تیل کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار بھی کم ہو گا۔‘

نامہ نگاروں کے مطابق یہ بل طویل اور پر جوش ماحول ميں منظور کیا گیا۔

بل کے تحت سنہ دو ہزار بیس تک ماحول میں آلودگی پھیلنے والوں ميں سنہ دو ہزار پانچ کے مقابلے 17 فیصد تک کمی لانے کا ہدف رکھا گیا ہے ۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے ایک کاربن ٹریڈنگ سسٹم استعمال میں لایا جائے گا اور اس کے علاوہ قدرتی ایندھن کے بجائے متبادل ایندھن کے استعمال پر زور دیا جائے گا۔

بل کی مخالفت کرنے والے رپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں کا یہی کہنا ہے کہ اس بل کی وجہ سے لاکھوں لوگ بےروزگار ہو جائيں گے اور ہر امریکی پر اضافی ٹیکس کا بوجھ پڑ جائے گا۔

ادھر ماحولیات کے ماہرین اس بل کی حمایت تر ضرور کر رہے ہیں لیکن انہيں اس بات کا خدشہ ہے کہ یہ بل ماحول میں آنے والی تبدیلی پر قابو پانے میں بہت زیادہ کامیاب نہیں ہوگا۔