’دس لاکھ امریکی سوائن فلو کا شکار‘

امریکی محکمہ صحت کے افسران کے اندازے کے مطابق گزشتہ تین ماہ میں تقریباً دس لاکھ امریکی سوائن فلو کا شکار ہوئے ہیں۔
بیماریوں کی روک تھام سے متعلق امریکی ادارے کا کہنا ہے کہ ان میں زیادہ تر کیس ہلکی نوعیت کے تھے لیکن اس فلو سے 127 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
یہ ادارہ اپنے اعدادوشمار لیبارٹری کی شہادتوں کے بجائے سروے کی بنیاد پر جاری کرتا ہے لیکن جتنی بڑی تعداد میں لوگ اس فلو کا شکار ہوئے تھے اسے دیکھ کر اس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد اندازے سے کہیں کم ہے۔
ادارے کی اہلکار ڈاکٹر عینی شیوچٹ کا کہنا ہے کہ اس سال اب تک دس لاکھ افراد سوائن فلو کا شکار ہوئے ہیں جو زیادہ سنگین نوعیت کے نہیں تھے تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ یہ فلو زیادہ خطرناک شکل میں بھی واپس آسکتا ہے۔
یہ فلو ایسے لوگوں کو زیادہ نشانہ بناتا ہے جن کی عمر پچاس کے آس پاس یا اس سے زیادہ ہو یا پھر جنہیں دمہ یا پھر ذیابیطس کا مرض ہو۔امریکہ میں اس فلو سے جن لوگوں کی موت ہوئی ان کی عمر اوسطاً 37 سال تھی۔
بیماریوں کی روک تھام سے متعلق امریکی ادارہ اور عالمی تنظیمِ صحت یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ اس فلو کا وائرس مختلف ممالک میں کس طرح پھیل رہا ہے اور کیا یہ سردیوں کے موسم میں زیادہ مہلک شکل میں واپس آ سکتا ہے۔
ارجنٹائن کی وزارتِ صحت نے سوائن فلو سے 26 لوگوں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے اور لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اتوار کو ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے الیکشن میں ووٹ دینے کی لائن میں ایک دوسرے سے فاصلہ رکھ کر قطار میں کھڑے ہوں۔
چلی نے بارہ اموات اور چھ ہزار دو سو گیارہ کیس رجسٹر کیے ہیں۔جبکہ آسٹریلیا میں پانچ اموات اور 3،677 کیس درج کیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس فلو کے وائرس نے اپریل میں سب سے پہلے میکسیکو میں حملہ کیا تھا جہاں 116 افراد کی ہلاکت کی اطلاع تھی۔






















