امریکی فوج عراقی شہروں سے واپس

عراق میں امریکی سالاری میں جنگی کارروائیاں ستمبر دو ہزار دس تک ختم ہو جائیں گی جبکہ عراق سے تمام امریکی فوجی سنہ دو ہزار گیارہ کے آخر تک چلے جائیں گے۔
،تصویر کا کیپشنعراق میں امریکی سالاری میں جنگی کارروائیاں ستمبر دو ہزار دس تک ختم ہو جائیں گی جبکہ عراق سے تمام امریکی فوجی سنہ دو ہزار گیارہ کے آخر تک چلے جائیں گے۔
وقت اشاعت

عراق پر حملے کے چھ برس بعد بالآخر امریکی فوجیں ملک میں امن و امان کی ذمہ داری عراقی فوجوں کے سپرد کرکے خود شہری علاقوں سے باہر نکل رہی ہیں۔عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے آج منگل کو قومی خود مختاری کا دن قرار دیا ہے بغداد میں آتش بازی کا مظاہرہ ہوا اور خوشیوں کی تقریبات منائی گئیں۔ حالیہ حملوں کے باوجودامریکی فوجی کمانڈر اس انتقال اختیارات کو ایک سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔

تاہم امریکی فوجیں اب بھی عراق میں موجود رہیں گی اور عراقی فوجی دستوں کے ساتھ منسلک رہیں گی۔ ان ایک لاکھ تیس ہزار فوجوں کی اصل واپسی 2011 میں ہوگی۔

عراق میں امریکی سالاری میں جنگی کارروائیاں ستمبر دو ہزار دس تک ختم ہو جائیں گی جبکہ عراق سے تمام امریکی فوجی سنہ دو ہزار گیارہ کے آخر تک چلے جائیں گے۔

تاہم سکیورٹی کا انتظام امریکی ہاتھوں سے عراقی ہاتھوں میں آنے کے موقع پر عراقی فوجی پوری طرح الرٹ ہیں کہ کہیں کوئی تخریبی کارروائی نہ ہوجائے۔

Image

انخلاء کی علامت کے طور پر امریکیوں کے زیرِاستعمال سابق عراقی وزارت دفاع کی عمارت کی چابیاں بغداد میں سیکیورٹی کے ذمہ دار جنرل عبود قمبر کے حوالے کی گئیں۔ اس موقع پر ہزارہا لوگ بغداد کے ضورا پارک میں امنڈ آئے جہاں حکام کی جانب سےلوگوں کی تفریح طبع کےلیےنظموں اورموسیقی کااہتمام کیاگیا تھا۔عراق نےاس انخلاء کی خوشی میں منگل کوعام تعطیل قرار دیتے ہوئے اسے قومی خودمختاری کے دن کے طورپرمنانےکا اعلان کیاہے۔ شہروں اورقصبات سےامریکیوں کےانخلاء کے بعدوہاں سیکیورٹی اورامن عامہ کی ذمہ داریاں عراقی پولیس نبھائے گی۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق شہروں اور قصبات سے امریکی دستوں کی واپسی یقیناً اہم واقعہ ہے لیکن دو برس بعد عراق سے تمام امریکی فوج کا انخلاء اس سے کہیں بڑا چیلنج ہوگا۔ عراق میں اب بھی ایک لاکھ اکتیس ہزار امریکی فوجی موجود ہیں جن میں بارہ لڑاکا بریگیڈ بھی ہیں۔ ملک میں اگلے برس جنوری میں عام انتخابات ہونے ہیں اور اس سے پہلے امریکی فوجوں کی تعداد میں کسی بڑی کمی کی توقع نہیں ہے۔

امریکیوں کے انخلاء کا جشن بھی کڑے حفاظتی انتظامات کے سائے میں ہورہا ہے اور ضورا پارک جانے والے ہر فرد کو تین تین مراحل کے حفاظتی انتظامات سے گزر کرہی پارک میں جانے کی اجازت تھی لیکن کوئی بھی اس کا برا نہیں مان رہا تھا۔ عراقی وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق اگلے اعلان تک پولیس کی تمام نفری تعینات کردی گئی ہے۔

لیکن انخلاء کے باوجود امریکی فوجی شہروں کے باہر بہت کم فاصلے پر امریکی اڈوں میں موجود رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر انہیں عراقی انتظامیہ طلب کرسکے گی۔ جبکہ امریکی فوجیوں کی ایک مختصر تعداد اب بھی پولیس اور فوج کے ساتھ بطور مشیر کام کرتی رہے گی۔