غربِ اردن: پچاس نئے گھروں کی منظوری

اسرائیل نےمقبوضہ فلسطینی علاقےغرب اردن میں ایک یہودی بستی میں پچاس نئے گھروں کی منظوری دی ہے۔ فلسطینی حکام نے اسرائیلی فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق ان گھروں میں ان یہودیوں کو بسایا جائے گا جنہوں نے آدم نامی بستی کے قریب اسرائیلی حکومت کی مرضی کے بغیر فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ کیا ہوا تھا۔ سرکاری اجازت آدم نامی بستی میں توسیع کے ایک بڑے منصوبے کا صرف پہلا مرحلہ ہے۔
اسرائیلی حکومت کا فیصلہ اس امریکی مطالبے کی سراسر نفی ہے جس میں اسرائیل سے مقبوضہ فلسطینی زمینوں پر ہر طرح کی یہودی آبادکاری روکنے کی بات کہی گئی ہے۔ لیکن ایک اسرائیلی ترجمان مارک ریگیو کے مطابق موجودہ بستیوں میں اضافےاور نئی بستیاں بنانے میں فرق ہے۔
نئی حکومت نے بڑا صاف کہا ہے کہ ’ہم نہ تو نئی بستیاں بنائیں گے نہ نئی بستیوں کے لیے زمین ضبط کریں گے۔ اس کے برعکس ہم اس معاملے پر امریکیوں اور اور یورپی اتحاد کے ساتھ گفتگو کررہے ہیں کیونکہ یہ ایک متنازعہ معاملہ ہے۔ اسی لیے ہماری تجویز یہ ہے کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہیے جس سے اس معاملے پر کوئی اثر پڑے کیونکہ بالآخر اس معاملے کو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو باہمی طور پر ہی حل کرنا ہے۔ ہم اس حتمی حل تک بس یہ چاہتے ہیں کہ ان بستیوں میں معمول کی زندگی چلتی رہے‘۔
فلسطینی انتظامیہ نے اسرائیلی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ عالمی برادری کی امن مذاکارت شروع کرانے کی کوششوں کے لیے براہ راست چیلنج ہے۔ فلسطینی وزیر برائے تعمیرات محمد شتیح کا کہنا تھا ’فلسطینی اتھارٹی اس اسرائیلی قدم کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔ یہ اعلان پوری عالمی برادری اور اس کے عزم کے لیے چیلنج ہے جس نے تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ہر طرح کی یہودی آبادکاری فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ دراصل عالمی برادری کی ان کوششوں کے لیے ایک شدید دھچکا بھی ہے جن کا مقصد امن مذاکرات دوبارہ شروع کرانا تھا۔ یہ دراصل اسرائیلی حکومت کی جانب سے جارحیت کا اظہار ہے۔‘
فلسطینیوں کے مطابق مقبوضہ فلسطینی زمینوں پر یہودی بستیاں کسی بھی امن سمجھوتے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ تاہم اسرائیل کی دائیں بازو کی نئی حکومت نے امریکی اور یورپی مطالبات کے باوجود یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے سے انکار کردیا ہے۔


















