افغانستان: امریکی فوجی کو پکڑا لیا

افغانستان میں امریکی فوج کا کہنا ہے کہ مشرقی افغانستان میں شدت پسندوں نے ایک امریکی فوجی کو پکڑ لیا گیا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ کم از کم گزشتہ دو سال کے دوران یہ پہلا امریکی فوجی ہے جسے عراق یا افغانستان میں پکڑا گیا ہے۔
یہ خبر اس وقت آئی ہے جب افغانستان کے صوبہ ہلمند کے جنوب میں امریکی اور افغان فوجوں نے طالبان کے خلاف آپریشن شروع کیا ہے۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد اگست میں افغانستان کے صدارتی انتخابات سے پہلے
سکیورٹی کی صورتِ حال کو بہتر بنانا ہے۔
کابل سے بی بی سی کے مارٹن پیشنس کا کہنا ہے کہ افغانستان کا صوبہ ہلمند پورے ملک میں بدترین تشدد سے دوچار رہا ہے۔
کہا گیا ہے کہ پکڑا جانے والا فوجی ’خنجر‘ کے نام سے شروع کیے جانے والے آپریشن میں شامل نہیں تھا۔
حقانی دھڑے کے نام سے معروف طالبان کے ایک شدت پسند گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ فوجی اس کے قبضے میں ہے تاہم اس کی تصدیق طالبان کے مرکزی ترجمان سے نہیں ہو سکی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ لاپتہ فوجی کا سراغ لگانے کے لیے اپنے تمام ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔
خبر رساں اداے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ حقانی دھڑے کے سربراہ جن کا نام صرف بہرام بتایا گیا ہے کہا ہے کہ امریکی فوجی کو تین افغان فوجیوں کے ساتھ افعانستان کے صوبہ پکتیا کے ڈسٹرکٹ یوسف خیل سے پکڑا گیا ہے۔
ان کاکہنا ہے کہ پکڑے جانے والے فوجی کو ’محفوظ‘ مقام پر رکھا گیا ہے۔






















