احمدی نژاد کی حکومت غیر قانونی ہے: موسوی

برطانوی حکومت ان اطلاعات کی تصدیق کی کوشش کر رہی ہے کہ ایران نے برطانوی سفارت خانے کے عملے کے گرفتار اراکین میں سے ایک اور کو رہا کر دیا ہے
،تصویر کا کیپشنبرطانوی حکومت ان اطلاعات کی تصدیق کی کوشش کر رہی ہے کہ ایران نے برطانوی سفارت خانے کے عملے کے گرفتار اراکین میں سے ایک اور کو رہا کر دیا ہے
وقت اشاعت

ایران میں صدارتی الیکشن میں ہارے ہوئے امیدوار میر حسین موسوی نے کہا ہے کہ صدراحمدی نژاد کی نئی حکومت کو وہ غیر قانونی سمجھتے ہیں۔

میر حسین موسوی نےیہ بیان اپنی ویب سائٹ پر دیا اور اس طرح اتوار کو الیکشن کے سرکاری نتائج کے اعلان کے بعد انہوں نے جو خاموشی اختیار کرلی تھی اسے توڑا ہے۔ انہوں نے حکام سے کہا ہے کہ انتخابات کے بعد مظاہروں کے دوران جن لوگوں کوگرفتار کیا گیا ہے ان کو رہا کردیں۔

اس سے قبل سرکاری ملیشیا میں شامل نوجوانوں کے دستے بسیج نے کہا تھا کہ ان مظاہروں میں میر حسین موسوی کے کردار پر ان کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔

ادھر برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان اطلاعات کی تصدیق کی کوشش کررہی ہے کہ ایرانی حکام نے تہران میں برطانوی سفارت خانے کے عملے میں شامل جن ایرانیوں کو گرفتار کرلیا تھا تھا ان میں سے ایک اور کو رہا کردیا ہے۔

ابتداء میں نو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں سے پانچ کو ہفتے کے شروع میں چھوڑ دیا گیا اور مزید دو کو بدھ کی صبع رہا ئی ملی۔ ان پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ وہ الیکشن کے دوران تشدد میں ملوث تھے۔

ایران اب بھی الزام لگا رہا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے تشدد کے پیچھے یورپی یونین کا ہاتھ تھا اور اس نے کہا ہے کہ اگر یورپی یونین معافی نہیں مانگے گی تو ایران کو یہ حق ہوگا کہ اپنے جوہری پروگرام کی بات چیت میں حصہ نہ لے۔