اسرائیل نے جنگی جرائم کیے: ایمنسٹی

اسرائیل کہتا ہے کہ اس نے صرف ان علاقوں کو نشانہ بنایا تھا جہاں سے حماس کے عسکریت پسند حملے کررہے تھے۔
،تصویر کا کیپشناسرائیل کہتا ہے کہ اس نے صرف ان علاقوں کو نشانہ بنایا تھا جہاں سے حماس کے عسکریت پسند حملے کررہے تھے۔
وقت اشاعت

حقوق انسانی کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ اسرائیل نے اس سال کے شروع میں غزہ پر فوج کشی کے دوران جنگی جرائم کیے تھے۔

تین ہفتے کی فوج کشی کے بارے میں ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل نے جس پیمانے پر اور جس شدت کے ساتھ حملے کیے ان کی نظیر نہیں ملتی۔ اس نے گنجان آْباد علاقوں پر توپوں سے گولہ باری کی اور سفید فاسفورس استعمال کیا۔

اسرائیل کہتا ہے کہ اس نے صرف ان علاقوں کو نشانہ بنایا تھا جہاں سے حماس کے عسکریت پسند حملے کررہے تھے۔

ایمنسٹی نے کہا ہے کہ حماس نے بھی جنگی جرائم کیے کیونکہ اس نے جنوبی اسرائیل پر راکٹ برسائے اور آبادیوں کے اندر سے راکٹ چھوڑے تھے۔

اندازہ ہے ایک ہزار چار سو فلسطینی اس فوج کشی میں ہلاک ہوۓ تھے اور تیرہ اسرائیلی بھی مارے گۓ تھے۔

ایمنسٹیکی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ہتھیاروں سے سینکڑوں عام فلسطینی ہلاک ہوئےجبکہ حماس کی راکٹ باری نے بھی اسرائیل کے عام شہریوں کو خطرے میں ڈالا۔

اسرائیل نے عام شہریوں کی کچھ اموات کو پیشہ ورانہ غلطیوں سے منسوب کیا ہے لیکن یہ الزام مسترد کر دیا ہے کہ اس کا حملہ ضرورت سے زیادہ سخت تھا۔

ایمنسٹیکے مطابق بائیس روزہ کارروائی کے دوران چودہ سو فلسطینی ہلاک ہوئے۔ان میںنو سو سے زیادہ عام لوگ گتھے جن میں تین سو بچے اور ایک سو پندرہ خواتینیا غیر لڑاکا پولیس تھی۔

مارچ میں اسرائیل نے کہا تھا کہ ہلاک شدگان فلسطینیوں کی تعداد 1166 تھی جن میں 295 عام لوگ تھے جو جنگ میں شامل نہیں تھے۔

ادھر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہغزہ کی پٹی میں اسرائیل نے بغیر پائلٹ کے جہاز یعنی ڈرون سے انتیس فلسطینیشہریوں کو ہلاک کیا تھا۔

بین الاقوامی تنظیم نے کہا ہے کہ یہ واقعہ چھ ماہ قبل غزہ کی پٹی میںپیش آیا تھا۔ یاد رہے کہ چھ ماہ قبل اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر حملہ کیاتھا جس میں متعدد فلسطینی شہری ہلاک ہوئے تھے اور اسرائیل کے اس اقدام سےعالمی برادری میں کافی تشویش پائی گئی تھی۔