برطانوی سفارتی عملے پر مقدمہ چلے گا

احمد جنتی نے جمعہ کے خطبہ میں یہ اعلان کیا
،تصویر کا کیپشناحمد جنتی نے جمعہ کے خطبہ میں یہ اعلان کیا
وقت اشاعت

ایران کی شوری نگہبان نے برطانوی سفارت خانے کے عملے کے ان ارکان پر مقدمہ چلانے کا اعلان کیا ہے جن پر صدارتی انتخابات کے بعد احتجاج میں شامل ہونے کے لیے لوگوں کو اکسانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

برطانوی وزارتِ خارجہ نے فوری طور پر ایران کی حکومت سے اس خبر کی وضاحت چاہی ہے۔

تہران کی طرف سے اس اعلان کے سامنے آنے کے بعد برطانیہ اور ایران کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے تہران میں برطانوی سفارت خانے کے عملے کے نو ارکان کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ حراست میں لیے گئے عملے کے نو ارکان میں سے دو اب بھی زیر حراست ہیں۔

یورپی یونین کے باقی ملک بھی تہران سے عارضی طور پر اپنے سفارت کار واپس بلانے پر غور کر رہے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے اطلاع دی ہے کہ شوری نگہبان کے سربراہ احمد جنتی نے جمعہ کے خطاب میں کہا کہ ان واقعات میں سفارت خانے کے لوگ موجود تھے اور ان میں کچھ لوگ گرفتار ہوئے۔ ’ان کو لوگ کو قدرتی طور پر مقدمہ چلایا جائے گا کیونکہ انہوں نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔‘

گزشتہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد جن میں صدر محمود احمدی نژاد کو کامیاب قرار دیا گیا تھا تہران میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔

تہران نے برطانیہ اور امریکہ کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے اور ان مظاہروں کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا تھا۔

گزشتہ ماہ تہران نے دو برطانوی سفارت کاروں کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا تھا اور اس کے رد عمل میں برطانیہ نہ بھی ایران کے لندن میں سفارت خانے کے دو ایرانی سفارت کاروں کو ملک سے نکال دیا تھا۔

تہران میں برطانوی سفارت خانے کے عملے میں شامل نو کے نو ارکان کا تعلق ایران سے تھا اور ان میں دو کو اب تک رہا نہیں کیا گیا ہے۔