بان کی مون برما کے دورے پر

آنگ سان سوچی
،تصویر کا کیپشنحزبِ اختلاف کی رہنما سوچی گزشتہ دو دہائیوں سے قید میں ہیں
وقت اشاعت

اقوامِ متحدہ کے سربراہ بان کی مون برما پہنچے ہیں جہاں وہ حزبِ اختلاف کی رہنما آنگ سین سو چی سمیت سیاسی قیدیوں کی رہائی کی کوشش کریں گے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل برما کے فوجی آمر جنرل تھا شوے سے ملاقات کریں گے۔

امن کی نوبل انعام یافتہ سو چی نے گزشتہ دو دہائیوں میں زیادہ تر وقت قید اور گھر میں نظر بندی میں گزارا ہے۔

اپنے ہی گھر میں نظر بندی کی شرطوں کی خلاف ورزی کرنے پر ان کے خلاف ہونے والا مقدمہ ایک ماہ سے زیادہ عرصہ کے تعطل کے بعد شروع ہو رہا ہے۔

سو چی کے وکلاء جج کی وکیلِ صفائی کی طرف سے پیش کیے گئے تین عینی شاہدین کی گواہی پر پابندی کے خلاف اپیل کر رہے ہیں۔ ایک اور گواہ کو شہادت کے لیے پیش کیا جائے گا۔

چونسٹھ سالہ سو چی پر مقدمے سے پوری دنیا میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی تھی۔

برما کی فوجی حکومت کے ناقدین اس مقدمے کو حکومت کی ایک چال کہہ رہے ہیں جو اگلے انتخابات تک حزبِ اختلاف کی رہنما کو قید رکھنے کے لیے چلی جا رہی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کہتے ہیں کہ بان کی مون کا دورہ آسان نہیں۔ اسی دوران سو چی کا مقدمہ شروع ہو رہا ہے۔ لیکن بان کی مون کی کوشش ہو گی کہ وہ برما کے فوجی آمروں سے کچھ رعایتیں حاصل کریں۔

نامہ نگار کے مطابق اگرچہ ماضی میں اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں کے برماکے دوروں سے کچھ حاصل نہیں ہوا لیکن ممکن ہے کہ ملک کے رہنما اپنی خفگی مٹانے کے لیے کوئی نئی راہ ڈھونڈیں اور بان کی مون کی مدد سے ایسا ممکن ہو۔