آسٹریلین نیوی، ’سیکس گیم‘ کی تحقیقات

ایچ ایم اے ایس سکسس
،تصویر کا کیپشنایچ ایم اے ایس سکسس پر دو سو بیس مرد و خواتین کام کرتے ہیں
وقت اشاعت

آسٹریلیا کی بحریہ نے ان دعوؤں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ بعض فوجیوں نے اپنی خواتین ساتھیوں کے ساتھ سونے پر نقد انعام کی شرطیں لگائی تھیں۔

چینل سیون کی خبر کے مطابق نیوی کے ان سیلرز نے ’ایچ ایم اے ایس سکسس‘ پر موجود تمام خواتین فوجیوں کی علیحدہ علیحدہ قیمت مقرر کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق خاتون افسر، ہم جنس پرست عورت یا کسی انوکھی جگہ پر جنسی مباشرت کرنے پر جیتنے والے کو زیادہ انعام ملتا تھا۔

محکمۂ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ اس سلسلے میں کئی افراد کو پوچھ گچھ کے لیے آسٹریلیا واپس بھیجا گیا ہے۔

ایچ ایم ایس سکسس پر دو سو بیس افراد کا عملہ کام کرتا ہے، اور ان دنوں یہ جہاز جنوب مشرقی ایشیا میں فوجی مشقوں میں مصروف ہے۔

چینل سیون کی رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ مئی میں سامنے آیا تھا۔ اس وقت یہ جہاز سنگاپور میں تھا۔

کہا جاتا ہے کہ فوجی لیجر نامی ایک کتاب میں اپنے ’معرکوں‘ کی تفصیلات لکھتے تھے کہ وہ کتنی خواتین رفقائے کار کے ساتھ سوئے ہیں۔

محکمۂ دفاع نے یہ نہیں بتایا کہ اس معاملے میں نیوی کے کتنے فوجی ملوث ہیں۔

تاہم بیان کے مطابق بعض خواتین کی جانب سے ظاہر کیے جانے والے خدشات کے بعد اب معاملے کی باقاعدہ تفتیش کی جا رہی ہے۔ تاہم الزامات کی صحت کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔