اسرائیل کو کارروائی کا اختیار ہے‘

جو بائڈن
،تصویر کا کیپشنبائڈن نے حال ہی میں مشرق وسطی کا دورہ کیا ہے
وقت اشاعت

امریکی نائب صدر جو بائڈن نے اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ایٹمی خطرے سے نمٹنے کے لیے اسرائیل نے فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا تو اوبامہ حکومت اسرائیل کو باز رکھنے کی کوشش نہیں کرے گی۔

اے بی سی ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ امریکہ کسی بھی خودمختار ملک پر اپنے فیصلے مسلط نہیں کر سکتا کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔

جب ان سے ایک ہی سوال تین مرتبہ پوچھا گیا کہ کیا امریکہ، اسرائیل کو روکنے کی کوشش کرے گا، تو جو بائڈن نے اپنا ایک ہی جواب دہرایا کہ ’اسرائیل ایک خودمختار ملک ہے اور اسے اپنے فیصلے خود کرنے کا حق ہے، چاہے ہم مانیں یا نہ مانیں‘۔

انہوں نے کہا کہ صدر اوباما کی جانب سے ایران کو مذاکرات کی پیشکش موجود ہے مگر اب اس کا انحصار تہران پر ہے کہ وہ کیا اقدامات کرتا ہے۔

صدر اوباما نے ایران کو اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے سال کے اختتام کا وقت دیا ہے۔

مغربی دنیا کو خدشہ ہے کہ ایران خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار تیار کر رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس یا ایوان صدر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مسٹر بائڈن نے ایران یا اسرائیل سے متعلق سوچ میں کسی تبدیلی کا اشارہ نہیں دیا ہے۔

ادھر مشرق وسطی سے یہ بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ایک اسرائیلی آبدوز نہرِ سویز سے گزری ہے۔

اسرائیلی اخبارات کے مطابق آبدوز کے ساتھ مصری بحریہ کے جہاز بھی تھے اور یہ ایک فوجی مشق میں حصہ لے رہی تھی۔

مبصرین کے خیال میں اس اقدام کا مقصد ایران کو متنبہ کرنا ہے کہ اس کی جانب سے کسی خطرے کی صورت میں دونوں ممالک مشترکہ کارروائی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

خطے میں صرف اردن اور مصر دو ایسے عرب ممالک ہیں جن کے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ امن معاہدے ہیں۔