ایرانی علماء: انتخابی نتائج ماننے سے انکار

ایرانی علماء
،تصویر کا کیپشناس اعلان کے بعد ایران کی انتظامیہ میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں
وقت اشاعت

ایران میں علماء کے ایک گروپ نے انتخابات کے سرکاری نتائج کو ناقص قرار دیتے ہوئے اس کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

اصلاحات کے حامی اس گروپ کی طرف سے صدارتی انتخابات کے نتائج کی مخالفت ایران کی شورائے نگہبان کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے جوکہ صدارتی انتخاب کو شفاف اور محمود احمدی نژاد کو واضح طور پر کامیاب امیدوار قرار دے چکا ہے۔

سنیچر کو سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی نے کہا تھا کہ انتخابات کے بعد ہونے والے واقعات نے حالات مزید بگاڑ دیے ہیں۔

اصلاحات کے حامی گروپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شوٰری نگہبان کو اب یہ حق حاصل نہیں کہ وہ انتخابات کے حوالے سے کوئی فیصلہ کرے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کی شوٰری نگہبان کے کچھ ارکان ایرانی عوام کی نظر میں اپنی غیر جانبدار حیثیت کھو چکے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم شوٰری نگہبان کے کہنے پر کیسے انتخابات کے نتائج قبول کر سکتے ہیں؟ کیا ہم دھاندلی کے نتیجے میں برسر اقتدار آنے والی حکومت کو جائز قرار دے دیں۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان ایران کی اعلیٰ انتظامیہ میں اختلافات واضح کرتا ہے۔ اور یہ خاص طور پر ایران کے رہنما اعلٰی آیت اللہ علی خامنہ ای کی مخالفت ہے۔

اس گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ ’گارڈین کونسل نے ہارنے والے امیدواروں میر حسین موسوی اور مہدی کروبی کی شکایات پر خاطر خواہ غور نہیں کیا لہذاہ باقی علماء بھی ان انتخابات اور اس کے نتیجے میں بننے والی حکومت کو غیر قانونی قرار دے‘۔