چین میں کشیدگی، مظاہرے

چین میں احتجاج
،تصویر کا کیپشن’کمیونسٹ چین کے سب سے خونی واقعات‘
وقت اشاعت

چین کے شہر ارمچی میں ہان نسل کے چینیوں کے گروہوں نے پولیس اور مختلف نسلی گروپوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں لاٹھیوں اور خنجروں سے مسلح ہو کر اوغروں کے خلاف مارچ کیا ہے۔

سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے فائر کیے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ اوغر مسلمانوں کی طرف سے تشدد کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

<link type="page"><caption> ’پاکستان کے لیے سبکی کا پہلو نہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/07/090707_xingjian_pakistan.shtml" platform="highweb"/></link>

دریں اثناء اوغر خواتین نے اتوار ہی کو چودہ سو سے زیادہ افراد کی گرفتاری کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ اوغر اور ہان چینی ایک دوسرے پر تشدد کا الزام لگاتے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اوغر اور ہان چینی مظاہرین نے ایک دوسرے پر پتھر پھینکے اور اسی دوران چینی مظاہرین اوغروں پر حملے کے لیے کہتے رہے۔ لوہے کی سلاخ پکڑے ہوئے ایک چینی نے اے ایف پی کو بتایا کہ پہلے اوغر ان کے علاقے میں توڑ پھوڑ کرنے آئے تھے اور اب وہ ان کو مارنے جا رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو اوغروں کے مظاہرے کے دوران ایک سو چھپن لوگ ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر ہان چینی تھے۔ اوغر مظٌاہرین نے احتجاج کے دوران ہان چینیوں پر حملہ کر دیا تھا۔اوغر گروہوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے اور ان میں نوّے فیصد اوغر تھے۔

اطلاعات کے مطابق چین کے صوبے شنگ جیانگ میں فسادات ملک کے جنوبی گوانگ ڈانگ میں دو اوغر کارکنوں کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے۔ ہلاک ہونے والے دونوں کارکن کھلونے بنانے والی ایک فیکٹری میں کام کرتے تھے جہاں انٹرنیٹ پر دو خواتین کے اوغر مزدوروں کے ہاتھوں جنسی زیادتی کی افواہ پھیل گئی تھی۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژینوا نے ارمچی کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ کے حوالے سے بتایا کہ اتوار کو شنگ جیانگ میں ہونے والے واقعات انیس سو انچاس میں نئے چین کے قیام کے بعد سب سے زیادہ خونی فسادات ہیں۔