’فسادات کے بعد حالات قابو میں‘

اورمچی
،تصویر کا کیپشنشہر میں رات کا کرفیو لگادیا گیا ہے
وقت اشاعت

چین کے صوبے شنگ جیانگ کے دارالحکومت اورمچی میں کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ وہاں فسادات کے بعد اب صورتحال قابو میں ہے۔ اتوار کے روز اوغر مسلمانوں اور ہن نسل چینیوں کے درمیان شروع ہونے والے فسادات میں ڈیڑ ھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

پارٹی سربراہ، لی زی نے فسادات کی ذمہ داری اوغر مسلمانوں اور ہن چینیوں کے درمیان چھوٹے شر پسند گروہوں پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کئی افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور ان میں پرتشدد جرائم کرنے والوں کو سزائے موت دی جائے گی۔

اس سے قبل چین کے صدر ہوجن تاؤ نے جی ایٹ ملکوں کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے سلسلے میں اپنا اٹلی کا دورہ مختصر کر کے وطن واپس لوٹنے کا فیصلہ کیا۔ چینی خبررساں ادارے ژنوا کے مطابق چین کے صدر نے یہ فیصلہ ملک کےشمال مغربی صوبے شنگ جیانگ میں امن و امان کی سنگین صورت حال کے پیش نظر کیا۔

دریں اثناء ارمچی میں اوغر مسلمانوں اور ہن چینیوں کے درمیان ٹکراؤ کو روکنے کے لیے ہزاروں نیم فوجی اور پولیس کے اہلکار طلب کر لیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ شہر میں ایک مظاہرے کی اطلاعات ملی ہیں جس میں ہزار ہن چینی شامل تھے۔ پولیس نے اس کو ختم کرنے کی کوشش کی اور اطلاعات کے مطابق ان کے قائدین کو گرفتار بھی کیا ہے۔

شنگ جیانگ کے دارالخلافہ اورمچی میں ہن چینی اور اوغر مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارنہ فسادات میں اتوار کو ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اورمچی میں منگل کے روز بھی حالات کشیدہ رہے اور شہر میں مسلسل دوسرے روز بھی رات کا کرفیو لگا دیا گیا اور تمام ٹریفک کو بند کر دیا گیا۔

نامہ نگاروں کے مطابق شہر میں بھاری تعداد میں سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے بعد بھی کشیدگی کی فضا برقرار رہی لیکن کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہیں آیا۔

ہن چینیوں کے ایک مشتعل جلوس کو جس کے شرکاء نے لاٹھیاں اور ڈنڈے اٹھا رکھے تھےمنشتر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ ڈنڈوں اور لاٹھیوں سے مسلح ہن چینی اوغر مسلمانوں کی طرف سے کیئے گئے حملوں سے مشتعل ہوئے تھے۔

اتوار کو ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعدچودہ سو سے زیادہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

اوغر مسلمانوں کی خواتین نے شہر کے اوغر علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں اتنی بڑی تعداد میں حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی کے لیے اتوار کو مظاہرہ کیا۔

بعد اذاں ہن چینیوں نے شہر کی سڑکوں پر جلوس نکالا اور اوغر مسلمانوں کی دکانوں کے شیشے توڑ دیئے اور سٹالوں کو نقصان پہنچایا۔

اورمچی میں بی بی سی کے نامہ نگار کونٹین سمروائل نے اطلاع دی کہ مظاہرین اوغر مسلمانوں کے خلاف نعرے لگا رہے تھے اور وہ گھریلوں ساخت کے ہتھیاروں سے مسلح تھے۔

پولیس نے ہن چینیوں کے اس جلوس کو اوغر آبادی والے حصوں اور بازاروں میں جانے سے روکنے کے لیے اشک آور گیس کا استعمال کیا۔

دریں اثنا اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اہلکار نوی پلے اور امریکہ کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے دونوں اطراف سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کو کہا ہے۔