جی ایٹ میں عالمی حدت میں کمی پر اتفاق

دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک ’جی ایٹ‘ کے سربراہی اجلاس میں سن دو ہزار پچاس تک عالمی حدت میں صرف دو ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافے ہونے دینے پر اتقاق ہو گیا ہے۔
جی ایٹ ملکوں کے سربراہوں کے اس اجلاس میں جو اٹلی کے شہر لاقیلہ میں ہو رہا ہے، مضر گیسوں کے اخراج میں کمی کرنے کے لیے بھی کڑے اہداف مقرر کیئے گئے جو سن دو ہزار پچاس تک عالمی حدت میں اضافے کو صرف دو ڈگری تک محدود کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کو مضرگیسوں کے اخراج میں اسی فیصد تک کمی کرنا ہو گی تاکہ عالمی سطح پر ان گیسوں کے اخراج میں پچاس فیصد کمی کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ اہداف کیسے حاصل کیئے جائیں گے اور ان پر اٹھنے والے اخراجات کو کہاں سے پورا کیا جائے گا۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں پر درمیانی مدت کے اہداف سے بچنے پر تنقید کی گئی۔ مزید براں ملکوں کے لیے اہداف کا تعین کرنے کے لیے مذاکرات کا مشکل مرحلہ ابھی باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مضر گیسوں کے اخراج میں کمی صرف ایک ہدف ہے اور اس کو حاصل کرنے کے لیے بھارت اور چین جیسے معاشی طور پر ابھرتے ہوئے ملکوں کے بھرپور تعاون کی ضرورت ہو گی۔
بی بی سی کے معاشی امور کے نامہ نگار اینڈریو واکر نے کہا ہے کہ مضر گیسوں کے اخراج میں کمی کی ابتداء انیس سو نوے کے بعد کسی تاریخ سے کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے بہت سے ملکوں کو بہت کم کمی کرنا پڑے گی کیونکہ مضمر گیسوں کے اخراج میں تیزی انیس سو نوے کے بعد کے عرصے میں آئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانیہ کے وزیر اعظم گورڈن براؤن نے کہا کہ جی ایٹ میں طے کیئے جانےوالے اہداف سے باقی ملک بھی جمعرات کو ماحولیاتی تبدیلیوں پر ہونے والے اجلاس میں اتفاق کریں گے۔
گورڈن براؤن نے کہا کہ جی ایٹ کے معاہدے نے اس سال کوپن ہیگن میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام ہونے والی کانفرنس کے لیے بنیاد فراہم کر دی ہے۔
بدھ کو جی ایٹ کے سربراہ اجلاس کے بعد ایک بیان میں ایران کے جوہری پروگرام پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
انہوں نے شمالی کوریا کی طرف سے جوہری اور میزائیلوں کے تجربوں کی بھی مذمت کی۔
اس اجلاس میں امریکہ کے صدر براک اوباما نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ سال مارچ میں جوہری تحفظ کے معاملے پر ایک سربراہی اجلاس بلانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
جی ایٹ میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، روس، برطانیہ اور امریکہ شامل ہیں۔ ان ملکوں کے سربراہوں کے اجلاس میں جی فائیو کے سربراہوں یا نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ ان ملکوں میں برازیل، چین، بھارت، میکسیکو اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔
عالمی اقتصادی بحران پر ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ استحکام کے کچھ اشارے ہیں لیکن مجموعی صورت حال غیر یقینی ہے اور ابھی کافی خطرات موجود ہیں۔






















