عراقی تیل کی نیلامی ایک چیلنج

- مصنف, مارک گریکری
- عہدہ, بزنس رپورٹر، بی بی سی ورلڈ سروس
- وقت اشاعت
کئی بڑی تیل کمپنیوں نے عراقی حکومت کی طرف سے چھ تیل اور دوگیس کے کنوؤں کی نیلامی کو چیلنج کر دیا ہے۔
یہ نیلامی گزشتہ ہفتے بغداد میں کی گئی تھی اور نیلامی کی کارروائی کو براہِ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا تھا۔
شیل، بی پی، ایکسون اور ٹوٹل سمیت بتیس بولی دہندگان میں سے صرف ایک کمپنی نے عراقی وزارتِ تیل کی طرف سے لگائی گئی شرائط کو ماننے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
حکومت نے باقی کمپنیوں سے کہا ہے وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں اور باقی ماندہ ٹھیکوں کے لیے اپنی پیش کشیں جمع کرائیں۔
بی پی اور چین کی کمپنی سی این پی سی نے مشترکہ طور پر رمیلا کے تیل کے کنوئیں سے سترہ ارب بیرل تیل نکالنے کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا۔ اس وقت رمیلا کا ٹھیکہ ایکسون کے پاس ہے جس نے اس ٹھیکے کو جاری رکھنے سے معذوری ظاہر کر دی ہے۔
اب جبکہ صرف ایک ٹھیکے کی نیلامی ہو سکی ہے توانائی کے امور کے تجزیہ نگار الیکس منرو ان معاہدوں کو محتاط انداز سے اٹھایا گیا پہلے قدم قرار دے رہے ہیں۔
’عراق میں خدمات کے ٹھیکے کا ایک ایسا انتظام متعارف کرایا ہے جس میں تیل کمپنیوں کو ان کنوؤں سے نکلنے والے تیل میں سے کوئی حصہ نہیں ملتا۔‘
’اس سے انہیں صرف فیس ملتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’کمپنیوں کے نقطہِ نظر سے یہ انتظام باقی دنیا میں پائے جانے والے تیل کے ٹھیکوں سے مختلف ہے جہاں انہیں پیدا ہونے والے تیل سے حصہ ملتا ہے اور تیل کی عالمی منڈی میں بہتری اور پیداوار میں اضافے سے ان کو فائدہ پہنچتا ہے اور انہیں سرمایہ کاری پر بہتر منافع ملتا ہے۔‘
آئرس تیل کمپنی پیٹرل ریسورسز کے مینیجنگ ڈائریکٹر ڈیوڈ ہورگن کا کہنا ہے کہ عراق میں غیر یقینی صورت کے پیشِ نظر یہ ٹھیکے غیر محفوظ ہیں۔
’آپ لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ آپ کو کنوؤں کی ملکیت کے بغیر پیسے دیں اور وہ بھی اس صورت حال میں جب اِن ٹھیکوں کی منظوری اور قابلِ عمل ہونے کے بارے میں بہت بے یقینی پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا آپ کو عراقی حکام اور ان کنوؤں پر کام کرنے والے مزدوروں سے بھی مطلوبہ تعاون ملل پائے گا یا نہیں۔‘
مغربی تیل کمپنیوں کی غیر موافق شرائط کے باوجود عراق جانے پر آمادگی روسی اور چینی کمپنیوں کے طرف سے پیش آنے والا مقابلہ ہے۔
ڈیوڈ ہوگن کے مطابق مغربی کمپنیاں اگر اپنے مالی مفادات کو سامنے رکھ کر بھی کام کر رہی ہوں تو انہیں خطرہ رہے گا کہ کہیں چینی اور دیگر قومی تیل کمپنیاں زیادہ بولی لگا کر ان کے ٹھیکے نہ حاصل کر لیں۔
’مسابقت کی صورتِ حال کے پیش نظر کمپنیاں اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ عراق سے باہر رہنے میں عراق میں جاکر کاروبار کرنے سے زیادہ خطرات پنہاں ہیں۔‘
عراق میں دنیا بھر کے ایک تہائی تیل کے ذخائر ہیں۔ اس طرح کے دیگر تیل کے ذخائر کے برعکس عراقی تیل سستا ہے اور اس کو نکالنا بھی آسان ہے۔
سنٹر فار گلوبل انرجی سٹڈیز کے منوچہر تاکن کا کہنا ہے عراق میں ایک بیرل تیل نکالنے پر صرف چند ڈالر خرچہ آتا ہے جبکہ دنیا کے دیگر حصوں میں یہ اخراجات بیس سے تیس ڈالر فی بیرل بتائے جاتے ہیں۔
عراق میں تین کی صنعت میں بے حد وسیع امکانات موجود ہیں لیکن ملک میں یہ صنعت ابتر حالات کا شکار ہے۔
توانائی کے شعبے کے تجزیہ نگار الیکس منرو کے مطابق ستر کی دہائی کے وسط میں قومیائے جانے سے لیکر تیل کی صنعت قومی کنٹرول میں رہی ہے اور اس کا انٹرنیشنل آئل سیکٹر سے تعلق بہت کم رہا ہے۔
عراق کے خلاف جنگ اور صدام حسین کے دور میں عراق کے خلاف لگائی جانے والی پابندیوں سے تیل کی صنعت کمزور ہوئی تھی لیکن سن دو ہزار تین میں ملک پر امریکی حملے کے بعد سے حالات مزید بگڑ گئے ہیں۔
تیل کی تنصیبات اور پائپ لائنوں پر آئے دنوں مزاحمت کاروں کی طرف سے حملے ہوتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے تیل کی پیداوار اس سطح تک نہیں پہنچ سکی جہاں یہ جنگ کے آغاز سے پہلے تھی۔
ڈیوڈ ہوگن کے مطابق عراق میں تیل کی موجودہ پیداوار چوبیس لاکھ بیرل ہے جبکہ یہ صدام دور میں پابندیوں، ایران سے جنگ اور خانہ جنگی کے باوجود تیس لاکھ بیرل تھی۔
اس صورتِِ حال میں تیل کے شعبے کی بحالی کے لیے انٹرنیشنل تیل کمپنیوں کو ملک میں آنے کی ترغیب دینے کی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔
دوسری طرف انٹرنیشنل انرجی کمپنیاں یہ چاہتی ہیں کہ انہیں تیل نکالنے کے منافع بخش ٹھیکے مل جائیں تاکہ وہ تیل کے وسیع ذخائر سے فائدہ اٹھا سکیں۔






















