اورمچی میں مساجد بند

چین کی حکومت نے ملک کے شمال مغربی مسلم آبادی والے صوبے شنگ جیانگ کے دارالحکومت اورمچی میں تمام مساجد کو فوری طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اورمچی میں چند دن قبل اوغر مسلمانوں اور ہن نسل چینی باشندوں میں فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں کم از کم ڈیڑھ سو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
اورمچی کی مساجد کو بند کرنے کے اعلان کے بعد جمعہ کی نماز بھی ادا نہیں کی جا سکیں۔
اس سے قبل چین کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اورمچی میں ہونے والے فسادات میں جو عناصر ملوث تھے ان کا القاعدہ اور دوسرے غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں سے تعلق تھا۔ تاہم انہوں نے اس الزام کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق شہر کی مساجد کے باہر بڑی تعداد میں فوج اور سیکیورٹی فورسز کے دستے تعینات ہیں۔
چینی حکومت کا کہنا ہے کہ اوغر مسلمانوں کی طرف سے ہن چینیوں پر حملوں میں ایک سو چھپن افراد ہلاک اور ایک ہزار کے قریب زخمی ہو گئے تھے۔ اوغر کے جلا وطن راہنماؤں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کا ردعمل ضرورت سے زیادہ شدید تھا۔ انہوں نے دعوی کیا ہے کہ فسادات اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں کم از کم آٹھ سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اوغر کے اسی لاکھ مسلمان ایک عرصے سے چینی حکومت کی طرف سے ان کے مذہبی، سیاسی اور اقتصادی استحصال کی شکایت کرتے رہے ہیں۔
اورمچی میں گزشتہ چند دہائیوں میں بڑی تعداد میں ہن نسل چینی باشندوں کی آمد سے اوغر مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















