’دہشتگردی کےخلاف جنگ بہت کٹھن مگر ضروری‘

براک اوباما
،تصویر کا کیپشنلندن پر شدت پسندوں کے حملوں امکانات اتنے ہی زیادہ ہیں جتنے کہ امریکہ پر حملوں کے: براک اوباما
وقت اشاعت

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ بہت کٹھن ہے تاہم یہ ملکی استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔

براک اوباما نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کہ امریکی او اتحادی افواج نے طالبان کو پیچھےدھکیل دیا ہے تاہم ہمارا ابتدائی ہدف افغانستان میں انتخابات کے ذریعے جمہوری حکومت کا قیام ہے۔

امریکی صدر نےیہ انٹرویو برطانوی ٹی وی سکائی نیوز کو ایک ایسے وقت دیا جبکہ افغانستان میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد بڑھنے کےساتھ برطانیہ میں افغانستان میں جاری جنگ کےحوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

افریقہ کے ایک روزہ دورے کے دوران براک اوباما نے سکائی نیوز کو بتایا کہ’افغانستان میں جاری جنگ دہشتگردی کے خلاف امریکی جنگ کا لازمی جزو ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں برطانوی فوجیوں کی شمولیت نہ صرف انتہائی ضروری ہے بلکہ یہ برطانیہ کی قومی سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ’یہ صرف امریکہ کا ہی مشن نہیں بلکہ افغانستان میں جاری اس جنگ کی اہمیت یورپی ممالک کے لیے بھی امریکہ سے کم نہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’لندن پر شدت پسندوں کے حملوں امکانات اتنے ہی زیادہ ہیں جتنے کہ امریکہ پر۔‘

امریکی صدر نے طالبان کے خلاف گوریلا جنگ لڑنے والے تمام فوجیوں کی تعریف کی تاہم اس سوال پر کہ یہاں برطانوی فوج کا کردار کتنا اہم ہے ان کا کہنا تھا کہ ’ برطانوی فوجیوں نے اس جنگ میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔‘

’ان کو اس بات کا احساس ہے کہ ہم افغانستان یا پاکستان کو القاعدہ کا محفوظ پناہ گاہیں نہیں بننے دیں گے کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے انتہائی بے رحمی سے لندن میں ٹرین سٹیشنوں اورامریکی عمارتوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا۔‘

اس سے قبل برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن کو بھی اسی طرح کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ افغانستان میں برطانوی فوجیوں کی تعیناتی کی وضاحت کریں۔ گورڈن براؤن نے کہا ہے کہ افغانستان میں برطانوی فوجیوں کی تعیناتی کا مقصد برطانیہ کو دہشتگردوں سے محفوظ کرنا ہے۔

گزشتہ دس دنوں میں افغانستان میں پندرہ برطانوی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جو کہ عراق میں ہلاک ہونے برطانوی فوجیوں سے زیادہ ہے۔