غزہ حملہ: برطانیہ کی اسرائیل کو سزا

برطانیہ نے اسرائیلی بحریہ کو ساز و سامان فراہم کرنے کے پانچ ٹھیکے منسوخ کر دیے ہیں۔ اس نے ایسا اسرائیل کی طرف سے اس سال غزہ پر حملے کے دوران کچھ کارروائیوں پر اپنی ناپسندیدگی کے اظہار کے طور پر کیا ہے۔
برطانیہ کا کہنا ہے وہ ایسا اسلحہ فروخت نہیں کرتا جو اس کے خیال میں کوئی ملک اپنے اندر یا بیرونی جارحیت کے لیے استعمال کر سکتا ہو۔ اسرائئل کا کہنا ہے کہ اس کے فوجیوں نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔
بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے خلاف بائیس روزہ کارروائی کے دوران غیر ضروری طاقت کا استعمال کیا۔ اسرائیل کارروائی اٹھارہ جنوری کو ختم ہوئی تھی۔
برطانوی حکومت کو انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنطیموں اور برطانوی پارلیمان کے ارکان کی طرف سے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ کے بعد تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس کا فراہم کردہ اسلحے کا غیر قانونی استعمال کیا گیا ہے۔
ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حماس دونوں نے لڑائی کے دوران جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔ برطانیہ نے اپریل میں کہا تھا کہ اس نے اپنے اصولوں کی خلاف ورزی نہیں کی۔ تاہم اب پیر کو اس نے بیان جاری کیا کہ اس نے نظر ثانی کی ہے اور کچھ معاملات میں خلاف ورزیوں کے ثبوت ملے ہیں۔
اسرائیلی بحریہ کے ایک افسر نے کہا کہ ان کے ساتھ پینتیس میں سے پانچ معاہدے ختم کیے گئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ تمام خلاف ورزیاں ’سار 4.5 گنبوٹ‘ سے متعلق ہیں۔
فلسطینی تنظیموں کے مطابق اسرائیلی کارروائی میں چودہ سو فلسطینی ہلاک ہوئے۔ لڑائی میں تیرہ اسرائیلی ہلاک ہوئے جن میں سے نو فوجی تھے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے غزہ پر حملہ فلسطینی علاقوں سے اس کے علاقوں پر راکٹ حملوں کی وجہ سے کیا تھا۔


















