’ فوج افغانستان میں کیوں؟‘

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا ہے کہ امریکہ میں یہ سوچ پیدا ہو رہی ہے کہ جب القاعدہ کی قیادت پاکستان میں چھپی ہوئی ہے تو امریکی فوج افغانستان میں کیا کر رہی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے بدھ کے روز کونسل آن فارن ریلشنز سےخطاب کے دوران کہا کہ جب القاعدہ کی قیادت پاکستان میں چھپی ہوئی ہے ’تو امریکہ میں لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ ہم اپنے فوجیوں کو افغانستان میں اپنی زندگیاں خطرے میں ڈالنے کے لیے کیوں کہہ رہے ہیں۔‘
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں کامیابی کے لیے پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون بہت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ موسم خزاں میں پاکستان کا دورہ کریں گی۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ اور اس کے اتحادیوں کے نیٹ ورک کو تباہ کرکے القاعدہ کو ہمیشہ کے لیے شکست دینا چاہتا ہے تاکہ وہ پھر کبھی کسی ملک کے اقتدار پر قبضہ نہ کر سکیں۔
امریکی وزیر خارجہ جمعہ کے روز بھارت کے دورے پر روانہ ہونے والی ہیں جہاں وہ امریکہ اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کےحوالے سے بات چیت کرے گی۔امریکہ وزیر خارجہ بھارتی رہنماؤں سے خطے اور عالمی سطح پر بھارت کے کردار کے بارے میں بات چیت کریں گی۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ ایسے طالبان جنگجوؤں کو جو القاعدہ سے اپنا تعلق ختم کرنے، تشدد کی راہ کو چھوڑنے اور افغانستان کو ایک آزاد معاشرہ بنانے کے خواہاں ہوں، کو خوش آمدید کہے گا۔
انہوں نے کہا کہ طالبان اور اس جیسی دوسری طاقتیں کو جلد یہ بات سمجھ آ جائے گی کہ مزاحمت نےان کے بچوں کےلیے ایسا مستقبل نہیں دیا جس کی ان کو خواہش تھی۔
امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے ایران کو خبردار کیا کہ امریکہ کی براہ راست بات چیت کی پیشکش ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ایرانی قیادت کو اپنے ملک کی سمت کے بارے میں فیصلہ کرنا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی وزیر خارجہ نے نائب صدر جو بائڈن کے حالیہ بیان کے حوالے سے کچھ کہنے سے گریز کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ<link type="page"><caption> اسرائیل کو ایران کے خلاف کارروائی کا حق حاصل ہے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/07/090705_biden_israel_iran.shtml" platform="highweb"/></link> اور اگر اس نے ایسا کیا تو امریکہ اسرائیل کو روکنے کی کوشش نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا نائب صدر نے جو کچھ کہا ہے <link type="page"><caption> صدر براک اوباما اور وائٹ ہاؤس </caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/07/090709_obama_israel_iran_rr.shtml" platform="highweb"/></link>اس کے بارے میں پہلے ہی وضاحت کر چکا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل کا حامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے صرف اسرائیل اور فلسطینوں کو کردار نہیں ادا کرنا بلکہ پوری عرب دنیا کو اس کے بارے ایک کردار ادا کرنا ہے۔






















