چین میں ترقی کی شرح میں اضافہ

چین کے قومی شماریات کے ادارے ’نیشنل بیورو آف سٹیٹسٹکس‘ کے مطابق ملک کی سالانہ مجموعی مقامی پیداوار سن دو ہزار نو کی دوسری سہ ماہی میں سات اعشاریہ نوفیصد رہی ہے۔
یہ اعداد و شمار پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں بہتر ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مشکلات ابھی ختم نہیں ہوئی ہیں۔ ماہر اقتصادیات نے کہا تھا کہ دوسری سہ ماہی میں سات اعشاریہ پانچ فیصد کی امید ہے۔
چین کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ قومی ترقی کی آٹھ فیصد سالانہ شرح کو دوسرے ممالک سے قبل ہی حاصل کر لےگا۔
سنہ دو ہزار آٹھ کی دوسری سہ ماہی میں چین کی معاشی ترقی کی سالانہ شرح دس فیصد سے زیادہ رہی جس کو عالمی تجارت میں بحالی کی طرف ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
شماریات کے قومی ادارے کے مطابق شہری علاقوں میں فی کس آمدنی گزشتہ سال سے بڑھ کر گیارہ اعشاریہ دو فیصد ہو گئی ہے اور دیہی علاقوں میں یہ بڑھ کر آٹھ اعشاریہ چھ فیصد ہو گئی ہے۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار عالمی سطح پر جاری معاشی بحران کا مقابلہ نہیں کر سکے۔
نیشنل بیورو آف سٹیٹسٹکس کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنں میں کہا کہ ’حالیہ اقتصادی ترقی کے باوجود ہمیں بے شمار چیلنجز اور مشکلات کا سامنا ہے۔ بحالی کی بنیاد اب بھی کمزور ہے۔ شرح نمو میں اضافہ مستحکم نہیں ہے اور حالات میں بہتری کی شرح غیر متوازن ہے۔‘
شنگھائی میں بی بی سی کے نامہ نگار کرس ہوگ کا کہنا ہے کہ حالیہ بہتری کی وجہ چین کا اپنی معاشی ترقی کی رفتار کو بحال کرنے کے لیے پانچ سو پچاسی ارب ڈالر کا پیکج ہے جو اس نےعالمی اقتصادی بحران کے اثر کو ذائل اور قرضوں کے اجراء کو یقینی بنانے کے لیے مقرر کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















