نیپالی بیواؤں کا احتجاج

نیپال میں بیوائیں اس حکومتی منصوبے کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ مردوں کو ان سے شادی کے لیے مالی امداد دی جائے گی۔
حکومت نے منصوبے کا اعلان سالانہ بجٹ میں کیا ہے جس میں اس کے لیے سالانہ پچاس ہزار نیپالی روپے رکھے گئے ہیں۔واضح رہے کہ ساٹھ سال سے زیادہ عمر کی بیواؤں کو حکومت پہلے ہی پنشن ملتی ہے۔
نیپال میں ایڈز اور دیگر بیماریوں کی اونچی شرح اور حالیہ برسوں میں خانہ جنگی کی وجہ سے عورتیں بڑی تعداد میں بیوہ ہوئی ہیں۔ تاہم ملک میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مردوں کو شادی کے لیے پیسے دینے سے مسائل میں اضافہ ہوگا۔
اسی طرح کی ایک تنظیم سے وابستہ للی تھپہ نے کہا کہ ’یہ بالکل غلط ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ دوبارہ شادی سے بیواؤں کا بھلا نہیں ہوگا بلکہ حکومت کو چاہیے کہ وہ خواتین کے لیے صحت اور تعلیم اور ان کو سماجی تحفظ فراہم کرنے کے لیے خصوصی پروگرام شروع کرے۔
انتیس سالہ نیشا سوار نے جن کے خاوند کوماؤنوازوں نے ماردیا تھا کہا کہ دوبارہ شادی کے لیے پیسے دینے سے ان کا استحصال بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ان قیمت لگانے کے مترادف ہے۔ ان سے لوگ صرف پچاس ہزار روپے لینے کے لیے شادی کریں گے۔
ان کی ایک سہیلی تیس سالہ بیوہ پونم پاتھک نے کہا کہ انہیں سڑک پر جاتے ہوئے شرم محسوس ہوتی کہ لوگ انہیں دیکھ کر کیسے باتیس بنائیں گے کہ وہ بیوہ جا رہی ہے اس سے شادی کر لو تو پیسے ملیں گے۔
للی تھپہ کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ بیوہ کا مقام بلند کرنے کے لیے کام کرے۔ نیپال میں بیوہ ہونے کے بعد عورت مذہبی رسومات میں حصہ نہیں لے سکتی اور نہ ہی سرخ لباس یا زیور پہن سکتی ہے۔ زیادہ تر بیوائیں گھر ہیں میں رہتی ہیں اور کام کاج کا تمام بوجھ انہیں پر ہوتا ہے۔ للی تھپہ نے بتایا کہ بیوہ کو برا شگون سمجھا جاتا ہے۔
تھپہ نے کہا ضروری کام پر جاتے ہوئے لوگ بیوہ کو دیکھ کر راستہ بدل لیتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیپال کے پچھتر میں سے باون اضلاع میں خواتین نے مقامی انتظامیہ کو پیسے دینے کی پالیسی پر نظر ثانی کرنے کی اپیل کی ہے۔ حکام نے خواتین کی ان تنظیموں سے ملاقات کا وعدہ کیا ہے۔






















