تمام عملہ رہا، برطانیہ کا خیر مقدم

ایران
،تصویر کا کیپشنبارہ جون کو صدر احمدی نژاد کے دوبارہ منتخب ہوجانے کے بعد تہران میں پر تشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ احتجاج کے دوران بیس کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
وقت اشاعت

ایران نے برطانوی سفارت خانے کے زیرِ حراست باقی ملازمین کو بھی ضمانت پر رہا کر دیا ہے جنہیں گزشتہ ماہ کے انتخابات کے نتائج کے بعد ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں گرفتار کیا گیا تھا۔

سفارت خانے کے سیاسی تجزیہ کار حسین رسام بھی ان افراد میں شامل تھے جنہیں شروع میں ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ان پر صدر محمود احمدی نژاد کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر لوگوں کو بدامنی پر اکسانے کا الزام تھا اور انہیں مقدمے کا سامنا ہے۔

برطانیہ پہلے ہی ان الزامات کو مسترد کر چکا ہے کہ سفارت خانے کا عملہ وسیع پیمانے پر لوگوں کو احتجاج پر اکسانے میں ملوث ہے۔

عبدالصمد نے جو ایران میں برطانوی سفارت خانے کے رہا ہونے والے ملازمین کے وکیل ہیں کہا ہے کہ رسام حسین قید خانے سے نکل آئے ہیں اور ان کا زرِ ضمانت ایک لاکھ امریکی ڈالر ہے۔

برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے حسین رسام کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے ’سفارت خانے کے عملے کی حراست کا کوئی جواز نہیں تھا۔‘

بارہ جون کو صدر احمدی نژاد کے دوبارہ منتخب ہوجانے کے بعد تہران میں پر تشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ احتجاج کے دوران بیس کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

حالیہ ہفتوں میں ایران میں مظاہروں اور احتجاج کا زور کم ہو گیا ہے۔ ایران میں اجتماعات پر پاپندی ہے۔

ایران نے بار بار غیر ملکی اقوام خصوصاً برطانیہ اور امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ مظاہروں کے پیچھے ان کا ہاتھ تھا۔

اپوزیشن کے ہارنے والے صدارتی امیدوار میر حسین موسوی کا کہنا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے محمود احمدی نژاد کو کامیاب بنایا گیا۔